’آزادی خوف سے کہیں زیادہ طاقتور ہے‘

یہ براک اوباما کے دورِ صدارت میں صرف تیسرا موقع تھا کہ انھوں نےاوول آفس سے قوم سے خطاب کیا
،تصویر کا کیپشنیہ براک اوباما کے دورِ صدارت میں صرف تیسرا موقع تھا کہ انھوں نےاوول آفس سے قوم سے خطاب کیا

امریکی صدر براک اوباما نے ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں فائرنگ کے حالیہ واقعے کو ’دہشت گردی کی واردات‘ قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکہ اور اسلام کی جنگ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

اتوار کی شب واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس سے براہ راست خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’آزادی خوف سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔‘

اپنی تقریر میں صدر اوباما نے کہا کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ کیلیفورنیا کے حملہ آور’ کسی غیر ملکی شدت پسند تنظیم کے اشارے پر کام کر رہے تھے۔‘

گذشتہ ہفتے سان برنارڈینو میں فائرنگ کے واقعے میں 14 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اس واقعے میں ملوث دو افراد 28 سالہ رضوان فاروق اور ان کی 29 سالہ اہلیہ تاشفین ملک چند گھنٹے بعد پولیس کے ساتھ تصادم میں مارے گئے تھے۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ شدت پسند امریکی معاشرے میں موجود امتیاز کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پا لے گا لیکن امریکیوں کو ’اس جنگ کو اسلام اور امریکہ کے درمیان جنگ نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف ہونا چاہیے۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ ’اگر ہم دہشت گردی کو شکست دینا چاہتے ہیں تو ہمیں مسلم کمیونیٹیز کو اپنے مضبوط ترین اتحادیوں کے طور پر ساتھ رکھنا ہوگا نہ کہ ہم انھیں شک اور نفرت کا شکار بنا کر دور دھکیل دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کا اپنے ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے خلاف ہو جانا ہی وہ اصل چیز ہے جو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند چاہتے ہیں

انھوں نے کہا کہ ’دولتِ اسلامیہ، اسلام کی ترجمان نہیں۔‘ اور امریکہ اس شدت پسند تنظیم سے لڑنے کے لیے اپنی ہر ممکن طاقت استعمال کرے گا۔

28 سالہ رضوان فاروق اور ان کی 29 سالہ اہلیہ تاشفین ملک حملے کے چند گھنٹے بعد پولیس کے ساتھ تصادم میں مارے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن28 سالہ رضوان فاروق اور ان کی 29 سالہ اہلیہ تاشفین ملک حملے کے چند گھنٹے بعد پولیس کے ساتھ تصادم میں مارے گئے تھے

انھوں نے دولتِ اسلامیہ کو ’قاتل اور ٹھگ‘ گروہ کا نام دیا اور کہا کہ ’دہشت گردی کا حقیقی خطرہ ہے لیکن ہم سب مل کر اس پر قابو پائیں گے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے امریکہ میں بھی کئی اہم اقدامات کیے جانے چاہییں۔

صدر اوباما نے کہا امریکہ میں انتہاپسندی کی جانب مائل ہونے والے افراد کے لیے اسلحے کے حصول کو مشکل بنانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ایسے فرد کے لیے اسلحے کی خریداری مشکل بنا دے جس کا نام ’نو فلائی لسٹ‘ میں شامل ہو۔

امریکی صدر نے بتایا کہ انھوں نے محکمۂ خارجہ اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کو بغیر ویزے کے امریکہ آنے والے افراد کی سکریننگ کا عمل سخت کرنے کے احکامات بھی دیے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ براک اوباما کے دورِ صدارت میں صرف تیسرا موقع تھا کہ انھوں نےاوول آفس سے قوم سے خطاب کیا۔ اوول آفس سے امریکی صدر کا خطاب انتہائی مواقع پر ہی ہوتا ہے۔