’ایپل کا حملہ آور کا فون ان لاک کرنے سے انکار‘

،تصویر کا ذریعہAP
آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل نے امریکی عدالت کے اس حکم کے خلاف اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے جس میں کمپنی کو سان برنارڈینو کے حملہ آور رضوان فاروق کے فون سے معلومات کے حصول میں ایف بی آئی کی مدد کرنے کا حکم دیا تھا۔
گذشتہ دسمبر میں رضوان فاروق نے کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں اپنی بیوی تاشفین ملک کے ساتھ مل کر 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد پولیس نے انھیں بھی گولی مار دی تھی۔
ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’امریکہ کی حکومت نے ایپل کو ایک بے مثل قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے جس سے ہمارے صارفین کی سلامتی کو خطرہ ہے۔
’ہم اس حکم کی مخالفت کرتے ہیں، جس کے حالیہ قانونی مقدمے کے علاوہ بھی اثرات ہیں۔‘
خیال رہے کہ ستمبر 2014 تک ایپل کی مصنوعات میں موجود تحریری اور تصویری ڈیٹا خود بخود انکرپٹڈ ہوجاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
کسی بھی آئی فون میں محفوظ ڈیٹا تک رسائی خفیہ کوڈ سے حاصل کی جاسکتی ہے اور اگر دس مرتبہ غلط کوڈ کا اندراج کیا جائے تو سارا ڈیٹا خودبخود حذف ہو جاتا ہے۔
ایپل کا کہنا ہے کہ اس کا اپنا عملہ بھی ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ اقدام ایپل کی جانب سے ایڈورڈ سنوڈن کی امریکی حکومت کی نگرانی کے راز افشا کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔
اس سے قبل امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا تھا کہ رضوان فاروق کے آئی فون میں اہم معلومات ہیں اور عدالتی حکم میں ایپل سے کہا گیا کہ وہ سکیورٹی سافٹ ویئر کی مدد سے اس کا ڈیٹا حاصل کرنے کا کوئی راستہ نکالے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف بی آئی کا موقف ہے کہ انکرِپشن ٹیکنالوجی کے سبب اس فون کو ابھی تک نہیں کھولا جا سکا یعنی یہ نہیں پتہ چل سکا ہے کہ اس فون میں کیا مواد موجود ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ’وسیع پیمانے‘ پر پریشانیاں لاحق ہیں۔
ایف بی آئی فاروق کے فون میں پہلے تو اس طرح کی تبدیلی چاہتی ہے جس سے تفتیش کار ڈیٹا مٹنے کے خطرے کے بغیر جتنی بار چاہیں پاس کوڈ کی آزمائشی کوشش کر سکیں۔
وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ فون میں تیزی سے پاس کوڈ کی تبدیلی کے لیے کوئی راستہ ہموار کیا جائے تاکہ پاس کوڈ کے مختلف مرکبات آزمائے جا سکیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
خیال کیا جاتا ہے کہ فاروق نے چار ہندسوں پر مشتمل پاس کوڈ استعمال کیا ہوگا اور اس کے لیے تقریباً دس ہزار ممکنہ مرکب ہو سکتے ہیں۔
ایف بی آئی ’بروٹ فورس‘ نامی طریقہ استعمال کرنا چاہتی ہے جس کے تحت اس وقت تک ان تمام مرکبات کا استعمال کرنا ہے جب تک صحیح والا ملے اور فون کھل جائے۔
ایپل نے اس بارے میں ابھی کوئی جواب نہیں دیا ہے لیکن بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ کمپنی عدالت کے اس حکم کو چیلنج کرے گی۔
ماضی میں بھی ایپل نے صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے خلاف سخت لڑائی لڑی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سے گاہک کا کمپنی پر اعتماد مجروح ہو گا۔
اپنی ویب سائٹ پر ایپل نے لکھ رکھا ہے ’وہ تمام آلات جو جو آئی او ایس 8 اور اس کے بعد کے ورژن استعمال کرتے ہیں، حکومت کے سرچ وارنٹ کی بنیاد پر ایپل آئی او ایس سے ڈیٹا نکالنے کا ذمہ دار نہیں ہے، کیونکہ جن فائلوں کو نکالنا ہے وہ صارف کے پاس کوڈ کی انکرپٹڈ کی سے محفوظ ہوتی ہیں جو ایپل کے پاس ہے نہیں۔‘







