سان برنارڈینو کے حملہ آور کا فون ’ڈی کرِپٹ‘ کرنے میں ناکامی

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس کے ماہرین تاحال اس فون میں موجود مواد تک رسائی میں ناکام رہے جو گذشتہ سال سان برنارڈینو میں عام شہریوں پر حملہ کرنے والے والے جوڑے کی ملکیت تھا۔
امریکی شہری سید رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک نے شدت پسندگروپ دولت اسلامیہ سے متاثر ہو کر ریاست کیلیفورنیا میں 14 افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
یہ دونوں افراد حملے کے بعد پولیس سے مقابلے میں مارے گئے تھے اور حکام کو فاروق کے پاس سے ایک موبائل فون ملا تھا۔
تاہم ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کا کہنا ہے کہ انکرِپشن ٹیکنالوجی کے سبب اس فون کو ابھی تک نہیں کھولا جا سکا ہے یا بہ الفاظ ديگر یہ نہیں پتہ چل سکا ہے کہ اس فون میں کیا مواد موجود ہے۔
جیمز کومی نے یہ بات امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کی سماعت کے دوران بتائی۔
انھوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ’وسیع پیمانے‘ پر پریشانیاں لاحق ہیں۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے کہا: ’یہ (ٹیکنالوجی) پولیس، استغاثہ اور تحقیقات کرنے والے ان اہلکاروں کو متاثر کرتی ہے جو کہ کسی قتل، اغوا یا منشیات کے معاملے کی تفتیش کر رہے ہوتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس کے اثرات ہماری قومی سلامتی پر بھی پڑتے ہیں لیکن زیادہ تر یہ مقامی سطح پر قانون نافذ کرنے والوں کے لیے ایک مسئلہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیاں زیادہ سے زیادہ ایسی مصنوعات کو فروغ دے رہی ہیں جسے صرف اس کا مالک ہی پورے طور پر استعمال کرسکے۔
بہرحال ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ ایف بی آئی کے ڈائرکٹر نے ایسی ٹیکنالوجی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جو صارفین کی پرائیویسی کا تحفظ کرتی ہے اور اس طرح مجرموں کو قوت بخشتی ہے۔
گذشتہ سال وائٹ ہاؤس نے ایف بی آئی کے اعتراض کے باوجود کمپنیوں سے انکرپٹڈ ڈیٹا کے اشتراک کے منصوبے کو ترک کر دیا تھا۔
لیکن یہ مسئلہ سان برنارڈینو اور پیرس میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کےپیش نظر بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
ماہرین نے ایسی صورت حال میں بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر کمپنیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذاتی معلومات تک رسائی دیتی ہیں تو اس سے ہیکرز کو بھی وہاں تک رسائی مل سکتی ہے۔







