ماحولیاتی کانفرنس:’معاہدے پر پہنچنے میں مشکلات ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس کے آخری مرحلے میں صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے ابھی بھی کافی مشکلات کا سامنا ہے۔
فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ ’مالی مسائل معاہدے کے مسودے میں شامل سب سے اہم پہلو ہے اور اس پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔‘
امیر اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان اس سوال پر کہ غریب ممالک کو کاربن کے اخراج میں کمی کرنے کے لیے کتنی چھوٹ دی جانی چاہیے اختلافات موجود ہیں۔
کیریباتی کی ریاست جو کہ ان ممالک میں شامل ہے جو سطح سمندر میں بلندی کی وجہ سے خطرے میں ہیں کے صدر کا کہنا ہے کہ انھیں امید تھی کہ مندوبین عالمی درجہ حرارت کو ایک عشاریہ پانچ ڈگری سیلسیئس پر محدود کیا جائے گا نہ کہ دو سیلسیئس پر۔
واضح رہے کہ ماحولیاتی کانفرنس کے دوران مختلف ممالک کے وفود جہاں تیزی سے معاہدے کے مسودے پر کام کر رہے ہیں وہیں امیر اور ترقی پذیر ممالک کے اختلافات بھی مزید واضح ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فیبیوس کا کہنا ہے کہ وہ پُر اعتماد ہیں کہ معاہدے کے سلسلے میں حتمی کامیابی ضرور ملے گی تاہم وہ یہ بات بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جمعے کو اجلاس کے خاتمے سے قبل کافی کام ہونا ابھی باقی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترقی پذیر ممالک کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مسودے میں امیر ممالک کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے کی گنجائش ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک اس کے اثرات کا تنہا سامنا کرنے پر مجبور ہوں گے۔
ادھر دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ مسودہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اس میں واضح طور پر درج نہ ہوکہ نامیاتی ایندھن کا استعمال بتدریج ختم کردیا جائے گا۔
پیرس میں مذاکرات کار کوئلہ، تیل، اور گیس پر مشتمل نامیاتی ایندھن پر انحصار اور اس کے زمین پر درجہ حرارت کی حدت میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے دو دہائیوں پر مشتمل تکلیف دہ بین الاقوامی سفارتکاری کی جیت کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
فرانس کے دارالحکومت میں اقوام متحدہ کے تحت 195 ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک ترین مضمرات سے نمٹنے کے لیے آخری موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی خشک سالی، سیلاب، طوفان، اور جزیروں پر بڑھتی ہوئی سمندری سطح جیسے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
نو روزہ سخت مذاکرات کے بعد فرانس کے وزیر خارجہ اور کانفرنس کے میزبان لوراں فیبیوس نے بدھ کی شام ایک مسودہ جاری کیا جو آخری 48 گھنٹوں میں ہونے والے مذاکرات کے لیے ایک بنیاد فراہم کرےگا۔
اس موقع پر فیبیوس نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہم معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ہمیں مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔‘
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تقسیم کی بنیادی وجہ رینیو ایبل انرجی (قابلِ تجدید توانائی) پر آنے والی لاگت ہے۔
اقوام متحدہ کے تحت ماحولیاتی نظام سے متعلق معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ امر ہے کہ شمسی اور پن بجلی جیسی رینیو ایبل انرجی پر منتقل ہونے کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔
سامنے آنے والے نئے مسودے میں سینکڑوں قدرے چھوٹے اختلافات ختم کردیے گئے ہیں تاہم تمام اہم اختلافی نکات اب بھی حل طلب ہیں۔







