ماحولیاتی کانفرنس:’معاہدے پر پہنچنے میں مشکلات ہیں‘

فرانس کے دارالحکومت میں اقوام متحدہ کے تحت 195 ممالک کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنفرانس کے دارالحکومت میں اقوام متحدہ کے تحت 195 ممالک کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس کے آخری مرحلے میں صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے ابھی بھی کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ ’مالی مسائل معاہدے کے مسودے میں شامل سب سے اہم پہلو ہے اور اس پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔‘

امیر اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان اس سوال پر کہ غریب ممالک کو کاربن کے اخراج میں کمی کرنے کے لیے کتنی چھوٹ دی جانی چاہیے اختلافات موجود ہیں۔

کیریباتی کی ریاست جو کہ ان ممالک میں شامل ہے جو سطح سمندر میں بلندی کی وجہ سے خطرے میں ہیں کے صدر کا کہنا ہے کہ انھیں امید تھی کہ مندوبین عالمی درجہ حرارت کو ایک عشاریہ پانچ ڈگری سیلسیئس پر محدود کیا جائے گا نہ کہ دو سیلسیئس پر۔

واضح رہے کہ ماحولیاتی کانفرنس کے دوران مختلف ممالک کے وفود جہاں تیزی سے معاہدے کے مسودے پر کام کر رہے ہیں وہیں امیر اور ترقی پذیر ممالک کے اختلافات بھی مزید واضح ہو رہے ہیں۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ سنہ 2020 تک نافذ ہونے کے لیے گلوبل وارمنگ کی کس سطح پر اتفاق کیا جائے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناہم نکتہ یہ ہے کہ سنہ 2020 تک نافذ ہونے کے لیے گلوبل وارمنگ کی کس سطح پر اتفاق کیا جائے

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فیبیوس کا کہنا ہے کہ وہ پُر اعتماد ہیں کہ معاہدے کے سلسلے میں حتمی کامیابی ضرور ملے گی تاہم وہ یہ بات بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جمعے کو اجلاس کے خاتمے سے قبل کافی کام ہونا ابھی باقی ہے۔

ترقی پذیر ممالک کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مسودے میں امیر ممالک کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے کی گنجائش ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک اس کے اثرات کا تنہا سامنا کرنے پر مجبور ہوں گے۔

ادھر دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ مسودہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اس میں واضح طور پر درج نہ ہوکہ نامیاتی ایندھن کا استعمال بتدریج ختم کردیا جائے گا۔

پیرس میں مذاکرات کار کوئلہ، تیل، اور گیس پر مشتمل نامیاتی ایندھن پر انحصار اور اس کے زمین پر درجہ حرارت کی حدت میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے دو دہائیوں پر مشتمل تکلیف دہ بین الاقوامی سفارتکاری کی جیت کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

فرانس کے دارالحکومت میں اقوام متحدہ کے تحت 195 ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک ترین مضمرات سے نمٹنے کے لیے آخری موقع قرار دیا جا رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی خشک سالی، سیلاب، طوفان، اور جزیروں پر بڑھتی ہوئی سمندری سطح جیسے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔

سب سے بڑی رکاوٹ یہ امر ہے کہ شمسی اور پن بجلی جیسی رینیو ایبل انرجی پر منتقل ہونے کے اخراجات کون برداشت کرے گا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسب سے بڑی رکاوٹ یہ امر ہے کہ شمسی اور پن بجلی جیسی رینیو ایبل انرجی پر منتقل ہونے کے اخراجات کون برداشت کرے گا

نو روزہ سخت مذاکرات کے بعد فرانس کے وزیر خارجہ اور کانفرنس کے میزبان لوراں فیبیوس نے بدھ کی شام ایک مسودہ جاری کیا جو آخری 48 گھنٹوں میں ہونے والے مذاکرات کے لیے ایک بنیاد فراہم کرےگا۔

اس موقع پر فیبیوس نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہم معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ہمیں مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔‘

ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تقسیم کی بنیادی وجہ رینیو ایبل انرجی (قابلِ تجدید توانائی) پر آنے والی لاگت ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت ماحولیاتی نظام سے متعلق معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ امر ہے کہ شمسی اور پن بجلی جیسی رینیو ایبل انرجی پر منتقل ہونے کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔

سامنے آنے والے نئے مسودے میں سینکڑوں قدرے چھوٹے اختلافات ختم کردیے گئے ہیں تاہم تمام اہم اختلافی نکات اب بھی حل طلب ہیں۔