’کامیاب معاہدے کے لیے فاقہ کشی قبول نہیں کر سکتے‘

پیرس میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں ایک طویل مدتی معاہدے کی کوشش کی جائے گی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپیرس میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں ایک طویل مدتی معاہدے کی کوشش کی جائے گی

پیرس میں دنیا بھر کے وزرا پیر کو ماحولیات پر نئے عالمی جامع معاہدے کے لیے آخری کوشش کریں گے۔

یہ سیاست داں سنیچر کو منظور کیے جانے والے مسودے سے ایک معاہدہ تیار کرنے کی کوشش کریں گے۔

<link type="page"><caption> ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس: ’معاہدے کے مسودے کا متن منظور‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2015/12/151205_climate_draft_deal_hk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> کوئلے کے منصوبوں سے عالمی حدت کا خطرہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2015/12/151202_cop21_coal_plans_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

غریب ممالک نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امیر ممالک ماحول کو بچانے کے لیے ان کی ترقی کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ بات چیت ناکام ہو جائے گی۔

ایک مندوب نے کہا کہ پیرس کے کامیاب معاہدے کے لیے غریب فاقہ کشی قبول نہیں کر سکتے۔

خیال رہے کہ مذاکرت کاروں نے چار برس میں ایک طویل مدتی معاہدے کے لیے مسودہ تیار کیا ہے اور وزرا کو اس مسودے کو صرف پانچ دنوں میں ایسے معاہدے میں تبدیل کرنا ہے جو تمام 195 ممالک کو قبول ہو اور یہ آسان نہیں ہے۔

یہ دستاویز 48 صفحات سے زیادہ پر محیط ہے اور اس میں 900 سے زیادہ قوسین لگے ہوئے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ اتنے مقامات پر اختلاف رائے ہے۔

ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان کئی سطح پر اختلافات پائے جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان کئی سطح پر اختلافات پائے جاتے ہیں

بعض مندوبین کا خیال ہے کہ بہت زیادہ کام سیاست دانوں کے کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی ماحولیات کی کمشنر میگوئل ایریئس کینیٹے نے کہا: ’تمام مشکل سیاسی مسائل حل طلب رہتے ہیں اور اسے وزیروں کو حل کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’آنے والا ہفتہ مفاہمت کا ہفتہ ہے اور یہ مشکل ہفتہ ہے۔‘

ابھی اس بات پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ کیا یہ معاہدہ پوری طرح سے قانونی جواز کا حامل ہوگا یا اس کا کچھ حصہ ہی لازمی ہوگا۔

اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ معاہدہ کا طویل مدتی ہدف کیا ہونا چاہیے۔

جزائر پر مشتمل کئی ممالک کا کہنا ہے کہ اس میں یہ شامل ہونا چاہیے کہ اگر دنیا مزید ڈیڑھ سینٹی گریڈ گرم ہوتی ہے تو سطح سمندر میں اضافے کے نتیجے میں ان کے گھر ڈوب جائیں گے جبکہ دوسرے ممالک دو ڈگری تک گرمی میں اضافے کے حق میں ہیں۔

دوسرا مسئلہ تدریجی فرق کا ہے۔ سنہ 1992 میں جب اقوام متحدہ کے ماحولیاتی کنونشن پر دستخط کیے گئے تھے تو دنیا کو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درجوں میں رکھا گیا۔ اب امیر ممالک یہ چاہتے ہیں کہ پیرس سمجھوتہ تبدیل شدہ دنیا کی عکاسی کرے۔

بہت سے جزائر ممالک درجۂ حرارت میں مزید اضافے کے متحمل نہیں ہو سکتے
،تصویر کا کیپشنبہت سے جزائر ممالک درجۂ حرارت میں مزید اضافے کے متحمل نہیں ہو سکتے

بہت سے ممالک چاہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہی عمل کریں لیکن تبدیلی کا نقطۂ نظر بہت سے اہم ترقی پذیر ممالک کے حق میں نہیں جاتا۔

چین نے حتمی معاہدے میں اس تقسیم میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوشش کی تنقید کی ہے۔

ملائیشیا کے گردیال سنگھ نیجار نے کہا: ’اس معاہدے کی کامیابی کی قیمت کے طور پر ہم فاقہ کشی قبول نہیں کر سکتے۔‘

ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گردیال سنگھ ہم خيال ممالک کے گروپ کے جذبات کی عکاسی کر رہے تھے جن میں چین بھارت، اور سعودی عرب بھی شامل ہے۔

ان تمام اختلافات کے باوجود وسیع پیمانے پر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ مفاہمت کی کوئی نہ کوئی صورت نکل آئے گی۔