’مالی امداد ملے تو بھارت کوئلے کا استعمال کم کرنے کو تیار ہے‘

محققین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی منصوبے بھارت اور چین جیسے ممالک کے کاربن میں کمی کرنے کے ایجنڈوں سے متصادم ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمحققین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی منصوبے بھارت اور چین جیسے ممالک کے کاربن میں کمی کرنے کے ایجنڈوں سے متصادم ہیں

بھارت کا کا کہنا ہے کہ پیرس میں ماحولیات سے متعلق کانفرنس میں جدید توانائی پیدا کرنے کی غرض سے اگر رقم فراہم کرنے پر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو وہ کوئلے کے استمعال کو کم کر دےگا۔

بھارتی وفد میں شامل سینیئر مذاکرات کار ڈاکٹر اجے ماتھر نے کہا کہ اگر ’زیادہ مہنگی‘ گرین توانائی کے لیے بطور مدد رقم مہیا کی جائے تو کوئلے کا استعمال محدود ہوسکتا ہے۔

بھارت میں توانائی کی شدید قلت ہے اور کہا جارہا ہے کہ توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے 2020 تک بھارت کوئلہ برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہوگا۔

اس کانفرنس سے قبل بھارت نے ماحولیات سے متعلق جو دستاویزات مہیا کی تھیں اس کے مطابق مستقبل میں ملک میں کوئلے کا استمعال کافی حد تک بڑھ جائے گا۔

لیکن بہت سے ممالک نے بھارت کے اس بیان کا یہ کہہ کر خیرم قدم کیا ہے کہ اس سے ایک نئے معاہدے کے طے ہونے کے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں۔

بھارتی دستاویزات کے مطابق مستقبل میں بھی توانائی کی پیداوار میں کوئلے کا کردار اہم رہے گا۔

اس کے مطابق ملک میں کوئلے کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے کے تحت 2020 تک اسے تقریبا ڈیڑھ ارب ٹن تک کر دیا جائےگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس عشرے کے اختتام تک تقریبا ہر ماہ کوئلے کی ایک نئی کان دریافت کرنا پڑے گی۔

بھارت میں بجلی کی شدید قلت ہے اور بجلی کی پیداوار کے لیے زیادہ تر پاور پلانٹ میں کوئلے کا استعمال ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت میں بجلی کی شدید قلت ہے اور بجلی کی پیداوار کے لیے زیادہ تر پاور پلانٹ میں کوئلے کا استعمال ہوتا ہے

بھارت کے تقریبا 30 کروڑ افراد بجلی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں اور ملک کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

بھارتی حکومت نے اس بات چیت میں یہ کہتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا ہے کہ اسے ملک کی ترقی کے لیے توانائی کی شدید ضرورت ہے اور اس کے لیے اس کے پاس جو بھی ذرائع ہیں اسے بروئےکار لائےگا۔

حال ہی میں بھارتی ماحولیات کے وزیر پرکاش جاؤڈیکر نے بی بی سی سے ایک بات چیت میں کہا تھا کہ چونکہ بھارت کو ضرورت ہے اس لیے کوئلہ استمال کرنے کا اسے ہر طرح سے حق حاصل ہے۔

لیکن بدھ کے روز ڈاکٹر ماتھر نے اس بارے میں ذرا مصالحتی رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ توانائی میں سرمایہ کاری کے لیے رقم مہیا کی جاتی ہے تو بھارت ہوا اور سورج کا استعمال زیادہ کرےگا اور کوئلہ کم ہوجائےگا۔

’ہمارا موقف بہت واضح ہے کہ سورج اور ہوا ہماری پہلی ترجیح ہے، ہائیڈرو اور جوہری جیسی غیر کاربن والی توانائی وغیرہ سب وہ چیزیں ہیں جنہیں ہم اپنی وسعت کے مطابق بنانا چاہتے ہیں۔ اور جو اس سے نہیں پورا ہوگا اس کے لیے کوئلے کا استعمال ہوگا۔‘

امریکہ سمیت بعض دیگر لوگوں نے بھارت کے اس موقف کو سراہتے ہوئے اسے حوصلہ افزا بتایا ہے۔

ادھر چین نے بھی ماحولیات کے متعلق کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ہوا کی صفائی اور کاربن میں کمی کے لیے وہ بجلی بنانے والے تمام کارخانوں کو بہتر کرے گا۔

چین کا کہنا ہے کہ معیار پر پورا نہ اترنے والے کوئلے کے پاور پلانٹس کو 2020 تک بند کر دیا جائےگا۔