حدت ایک ڈگری کے اضافے کی حد عبور کر جائےگی

اس ماہ پیرس میں ہونے والے عالمی مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے
،تصویر کا کیپشناس ماہ پیرس میں ہونے والے عالمی مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے

برطانیہ کے محکمۂ موسمیات نے خبرادار کیا ہے کہ دنیا بھر کے درجۂ حرارت میں صنعتی انقلاب سے پہلے کے مقابلے میں ایک ڈگری سیلسیئس سے زیادہ کا اضافہ ہونے جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس سال جنوری اور ستمبر کے درمیان جمع کیے جانے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنہ 1850 اور سنہ 1900 کے درمیانی برسوں کے مقابلے میں عالمی درجۂ حرارت میں پہلے ہی 1.02 ڈگری کا اضافہ ہو چکا ہے۔

اگر عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کا موجودہ رجحان جاری رہا تو سنہ 2015 وہ پہلا سال ثابت ہوگا جب صنعتی انقلاب سے پہلے کا ریکارڈ واضح طور پر ٹوٹ جائے گا۔ یہ وہ سال ہوگا جب عالمی درجۂ حرارت دو ڈگری کے اضافے کے نصف تک پہنچ چکا ہو گا، جہاں سے آگے عالمی حدت خطرناک حدود میں داخل ہونا شروع ہو جائے گی۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد اس ماہ پیرس میں ہونے والے ان عالمی مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے جن کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ماحولیات پر ایک نئے معاہدے کا حصول ہے۔

محققین کے لیے اس بات کا تعین کرنا خاصا مشکل کام ہے کہ جب سنہ 1750 کی دہائی میں صنعتی انقلاب کا آغاز ہوا اور کوئلے سمیت زمین میں دفن دیگر قدرتی وسائل کے استعمال میں اضافہ ہو گیا، اس وقت سے اب تک دنیا کے درجۂ حرارت میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔

اس برس بحرالکاہل کے کم گہرے پانیوں کے علاقوں میں ال نینیو پیدا ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشناس برس بحرالکاہل کے کم گہرے پانیوں کے علاقوں میں ال نینیو پیدا ہوا تھا

اس مشکل پر قابو پانے کے لیے برطانیہ کا محکمۂ موسمیات سنہ 1850 اور سنہ 1900 کے درمیان ریکارڈ کیے جانے والے اعداد و شمار کا استعمال کرتا ہے کیونکہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار ان کے تجزیے کو بہتر بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

برطانوی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 میں ایک ڈگری اضافے کی حد عبور ہونے کی وجہ وہ اثرات ہوں گے جو دنیا میں کاربن کے اخراج اور عالمی موسم میں تبدیلی (ال نینیو) کے امتزاج سے مرتب ہو رہے ہیں۔

محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر سٹیون بیلچر کہتے ہیں کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ اس برس بحرالکاہل کے کم گہرے پانیوں کے علاقوں میں ال نینیو پیدا ہوا تھا، جس کے کچھ اثرات اس برس کے موسموں پر پڑیں گے۔

’ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ماضی میں بھی عالمی موسم میں اس قسم کی قدرتی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں، لیکن یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ ہم درجۂ حرارت میں ایک ڈگری کے اضافے کی حد کو عبور کرنے جا رہے ہیں۔

’اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ موسم پر یہ نئے اثرات انسان خود مرتب کر رہا ہے جس سے دنیا کا درجۂ حرارت ان حدود میں داخل ہو رہا ہے جن کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں۔‘