لہو رنگ ’سپر مون‘ کا اگلا نظارہ اب 2033 میں ہوگا: ناسا

مکمل چاند گرہن میں زمین، سورج اور چاند اپنے مدار میں رہتے ہوئے سیدھی لکیر میں آ جاتے ہیں اور چاند، سورج سے زمین کے مخالف جانب آ جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمکمل چاند گرہن میں زمین، سورج اور چاند اپنے مدار میں رہتے ہوئے سیدھی لکیر میں آ جاتے ہیں اور چاند، سورج سے زمین کے مخالف جانب آ جاتا ہے

پیر اور اتوار کی درمیانی شب کو مکمل چاند گرہن ہوا اور دنیا کے کئی ممالک میں آسمان پر ایک ایسا چاند نمودار ہوا جو نہ صرف معمول سے بڑا تھا بلکہ اس کا رنگ بھی تانبے جیسا تھا۔

چاند کو گرہن لگنے کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ اس جرمِ فلکی کے ساتھ ایک اور سماوی مظہر بھی ہوا جسے ’سپر مون‘ کہتے ہیں یعنی چاند آسمان میں سات سے آٹھ فیصد بڑا نظر آرہا تھا۔

اس قدرتی مظہر کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف چاند کا زمین سے فاصلہ کم سے کم ہو بلکہ چاند پورا بھی ہو۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا ہے کہ سپر مون اور چاند گرہن آخری بار 1982 میں اکٹھے ہوئے تھے اور ایسا اب 2033 میں ہو گا۔

یہ اس برس کا دوسرا مکمل چاند گرہن تھا جسے سنہ 2008 کے بعد پہلی مرتبہ برطانیہ میں بھی دیکھا گيا اور آئندہ ایسا سنہ 2019 میں ہی ممکن ہوگا۔

اس بار مکمل چاند گرہن کے دوران چاند تانبے کے رنگ کا نظر آرہا تھا جس کی وجہ سے اس کا نام ’بلڈ مون‘ پڑ گیا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی فضا نیلگوں روشنی کو سرخ کی نسبت زیادہ طاقت سے بکھیرتی ہے جبکہ اس بار فضا نے نیلے کے بجائے تانبے کے رنگ کی روشنی بکھیری۔

اس بار گرہن کے دوران چاند تانبے کے رنگ کا نظر آرہا تھا جس کی وجہ سے اس کا نام ’بلڈ مون‘ پڑ گیا

،تصویر کا ذریعہGETTY AFP

،تصویر کا کیپشناس بار گرہن کے دوران چاند تانبے کے رنگ کا نظر آرہا تھا جس کی وجہ سے اس کا نام ’بلڈ مون‘ پڑ گیا

یہی وجہ ہے کہ چاند کی سطح تک پہنچنے والی روشنی نیلی نہیں بلکہ تانبے کے رنگ کی دکھائی دے رہی تھی۔

چاند گرہن برطانوی وقت کے مطابق پیر کی شب ایک بجکر 11 منٹ پر شروع ہوا اور تین بج کر 47 منٹ پرگرہن اپنے عروج پر پہنچا جبکہ یہ صبح پانچ بج کر 22 منٹ پر ختم ہوا۔

پورے چاند گرہن کا یہ انوکھا نظارہ مشرقی، شمالی اور جنوبی امریکہ، مغربی افریقہ اور مغربی یورپ میں بھی دیکھا گیا۔

اس گرہن کے دوران چاند برج حُوت کے اندر واقع ستاروں کے جھرمٹ میں تھا۔

مکمل چاند گرہن میں زمین، سورج اور چاند اپنے مدار میں رہتے ہوئے سیدھی لکیر میں آ جاتے ہیں اور چاند، سورج سے زمین کے مخالف جانب آ جاتا ہے۔

جوں جوں پورا چاند ہمارے سیارے کے سائے میں چلتا ہے، اس کی روشنی ڈرامائی طور پر کم ہوتی جاتی ہے لیکن زمین کی فضا سے گزرنے والی سورج کی روشنی کے باعث یہ نظر آتا رہتا ہے۔