لہو رنگ ’سپر مون‘ کا نظارہ

اتوار اور پیر کی درمیانی شب دنیا کے کئی ممالک میں رات کو آسمان پر ایک ایسا چاند نمودار ہوا جو معمول سے بڑا اور زیادہ روشن تھا۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو دنیا کے کچھ حصوں میں مکمل چاند گرہن ہوا، اس سے نہ صرف یہ کہ چاند کا رنگ تانبے جیسا نظر آرہا تھا بلکہ آسمان میں یہ معمول سے کچھ بڑا بھی دکھائی دے رہا تھا۔
،تصویر کا کیپشناتوار اور پیر کی درمیانی شب کو دنیا کے کچھ حصوں میں مکمل چاند گرہن ہوا، اس سے نہ صرف یہ کہ چاند کا رنگ تانبے جیسا نظر آرہا تھا بلکہ آسمان میں یہ معمول سے کچھ بڑا بھی دکھائی دے رہا تھا۔
گرہن لگنے کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ اس جرمِ فلکی کے ساتھ ایک اور سماوی مظہر ہوا جسے ’سپر مون‘ کہتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف چاند کا زمین سے فاصلہ کم سے کم ہو بلکہ چاند پورا بھی ہو۔
،تصویر کا کیپشنگرہن لگنے کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ اس جرمِ فلکی کے ساتھ ایک اور سماوی مظہر ہوا جسے ’سپر مون‘ کہتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف چاند کا زمین سے فاصلہ کم سے کم ہو بلکہ چاند پورا بھی ہو۔
یہ اس برس کا دوسرا مکمل چاند گرہن تھا جسے سنہ 2008 کے بعد پہلی مرتبہ برطانیہ میں بھی دیکھا گيا۔
،تصویر کا کیپشنیہ اس برس کا دوسرا مکمل چاند گرہن تھا جسے سنہ 2008 کے بعد پہلی مرتبہ برطانیہ میں بھی دیکھا گيا۔
’سپر مون‘ کہلانے والا یہ چاند زمین کے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے معمول سے چودہ فیصد زیادہ بڑا اور تیس فیصد زیادہ روشن ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن’سپر مون‘ کہلانے والا یہ چاند زمین کے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے معمول سے چودہ فیصد زیادہ بڑا اور تیس فیصد زیادہ روشن ہوتا ہے۔
مکمل چاند گرہن کے دوران چاند تانبے کے رنگ کا نظر آتا ہے جس کی وجہ سے اس کا نام ’بلڈ مون‘ بھی پڑ گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمکمل چاند گرہن کے دوران چاند تانبے کے رنگ کا نظر آتا ہے جس کی وجہ سے اس کا نام ’بلڈ مون‘ بھی پڑ گیا ہے۔
پورا چاند گرہن مشرقی شمالی اور جنوبی امریکہ، مغربی افریقہ اور مغربی یورپ میں نظر آیا۔ تاہم شمالی امریکہ کے مغربی حصوں، یورپ، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشا میں فلک بین صرف جزوی چاند گرہن ہی دیکھ سکے۔
،تصویر کا کیپشنپورا چاند گرہن مشرقی شمالی اور جنوبی امریکہ، مغربی افریقہ اور مغربی یورپ میں نظر آیا۔ تاہم شمالی امریکہ کے مغربی حصوں، یورپ، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشا میں فلک بین صرف جزوی چاند گرہن ہی دیکھ سکے۔
ماہرین فلکیات سپرمون سے متعلق فرضی داستانوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سپرمون کا زیادہ جرائم اور عجیب و غریب رویوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
،تصویر کا کیپشنماہرین فلکیات سپرمون سے متعلق فرضی داستانوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سپرمون کا زیادہ جرائم اور عجیب و غریب رویوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مکمل چاند گرہن میں زمین، سورج اور چاند اپنے مدار میں رہتے ہوئے سیدھی لکیر میں آ جاتے ہیں اور چاند، سورج سے زمین کے مخالف جانب آ جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمکمل چاند گرہن میں زمین، سورج اور چاند اپنے مدار میں رہتے ہوئے سیدھی لکیر میں آ جاتے ہیں اور چاند، سورج سے زمین کے مخالف جانب آ جاتا ہے۔
لہو رنگ دکھنے کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی فضا نیلگوں روشنی کو سرخ کی نسبت زیادہ طاقت سے بکھیرتی ہے جبکہ اس بار فضا نے نیلے کے بجائے تانبے کے رنگ کی روشنی بکھیری۔
،تصویر کا کیپشنلہو رنگ دکھنے کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی فضا نیلگوں روشنی کو سرخ کی نسبت زیادہ طاقت سے بکھیرتی ہے جبکہ اس بار فضا نے نیلے کے بجائے تانبے کے رنگ کی روشنی بکھیری۔
جوں جوں پورا چاند ہمارے سیارے کے سائے میں چلتا ہے، اس کی روشنی ڈرامائی طور پر کم ہوتی جاتی ہے لیکن زمین کی فضا سے گزرنے والی سورج کی روشنی کے باعث یہ نظر آتا رہتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنجوں جوں پورا چاند ہمارے سیارے کے سائے میں چلتا ہے، اس کی روشنی ڈرامائی طور پر کم ہوتی جاتی ہے لیکن زمین کی فضا سے گزرنے والی سورج کی روشنی کے باعث یہ نظر آتا رہتا ہے۔
چاند گرہن برطانوی وقت کے مطابق پیر کی صبح ایک بجکر 11 منٹ پر شروع ہوا اور تین بج کر 47 منٹ پرگرہن اپنے عروج پر پہنچا۔ یہ صبح پانچ بج کر 22 منٹ پر ختم ہوا۔
،تصویر کا کیپشنچاند گرہن برطانوی وقت کے مطابق پیر کی صبح ایک بجکر 11 منٹ پر شروع ہوا اور تین بج کر 47 منٹ پرگرہن اپنے عروج پر پہنچا۔ یہ صبح پانچ بج کر 22 منٹ پر ختم ہوا۔