سمندری طوفان کے بعد دو پوسٹ باکس عوامی توجہ کا مرکز

،تصویر کا ذریعہapple daily
تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں سمندری طوفان کی زد میں آنے والے دو پوسٹ باکس مقامی آبادی کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
لوگ ایک جانب کو جُھکے پوسٹ باکس کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے آدھے گھنٹے تک قطار بنائے کھڑے رہتے ہیں جنھیں سنیچر کو تائیوان کے جزیرے سے ٹکرانے والے سوڈلر طوفان کے باعث بل بورڈ گرنے سے نقصان پہنچا تھا۔
قطار کو قابو میں رکھنے کے لیے دو ڈاکیے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ ’اگر لوگ چاہتے ہیں تو ہم بھی اُن کے ساتھ تصویر بنوا لیتے ہیں۔‘ اُن میں سے ایک ڈاکیے نے تائیوان کے ایپل ڈیلی نامی ایک مقامی اخبار کو بتایا۔
لوگ ان باکسوں کے میں اعزاز بنائے گئے ایک فیس بُک پیج پر اپنی تصاویر لگا رہے ہیں اور یہ تصاویر چین کی سرزمین پر مقبولیت کی حدود کو چھونے لگی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں سماجی میڈیا صارفین اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔’ان کو دیکھو جو طوفان میں ایک دوسرے کو تھامے ہوئے ہیں۔‘ سماجی میڈیا کی سِنا ویبو ویبو نامی ایک ویب سائٹ کی صارف ژاؤن باہی کا کہتی ہیں’یہ بہت پیارا ہے!‘

،تصویر کا ذریعہapple daily
لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے طوفان کے باعث ہونے والی تباہی نمایاں نہیں ہو رہی جس نے 20 افراد کی جانیں لے لیں اور سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو بے گھر کر دیا۔
تائیوان کی ایک اداکارہ نیتا لی نے اپنے فیس بُک پیج پر لکھا کہ ’اگر بل بورڈ دو پوسٹ باکس کے بجائے دو لوگوں کے اُوپر گرتا تو کیا تب بھی یہ خبر اتنی ہی مزاحیہ ہوتی؟‘
تائیوان پوسٹ آفس کا کہنا ہے کہ وہ طوفان کی یادگار کے طور پر ان باکسوں کو ان کی موجودہ حالت میں ہی محفوظ کریں گے۔ لیکن ان کو قابلِ استعمال حالت میں رکھا جائے گا۔ اور وہ پرستار جو یہ سمجھتے ہیں کہ محض ایک تصویر ہی کافی نہیں ہے اُن کے لیے تحائف کی ایک لائن لگانے کے متعلق بھی سوچا جارہا ہے۔



