غصے کے باعث دل کا دورہ یا سٹروک ہونے کے امکانات زیادہ

وہ لوگ جن کو دل کا عارضہ ہے ان کو غصہ کرنے کے بعد دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہیں

،تصویر کا ذریعہpeter bowater

،تصویر کا کیپشنوہ لوگ جن کو دل کا عارضہ ہے ان کو غصہ کرنے کے بعد دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہیں

ایک نئی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ جو زیادہ غصہ کرتے ہیں ان کو دل کا دورہ پڑنے یا فالج ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

امریکی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ عام طور پر غصے کے بعد دل کا دورہ پڑتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ غصہ کرنے کے دو گھنٹے بعد تک دل کا دورہ پڑنے کے امکانات ہوتے ہیں۔

تاہم تحقیق کاروں نے کہا ہے کہ غصے کا دل کا دورہ پڑنے کے ساتھ تعلق کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جن کو دل کا عارضہ ہے ان کو غصہ کرنے کے بعد دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

ہارورڈ سکول آف پبلک ہیلتھ کی جانب سے کی گئی ریسرچ معلوم ہوا کہ غصہ کرنے کے دو گھٹنے تک دل کا دورہ پڑنے کے امکانات پانچ گنا جبکہ فالج ہونے کے امکانات تین گنا بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیق کاروں کے مطابق ایسے افراد جن کو دل کی بیماری نہیں ہے، وہ مہینے میں ایک بار ہی غصے میں آتے ہیں۔ ایسے دس ہزار افراد میں سے ایک کو دل کا دورہ پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم جن افراد کو دل کا عارضہ ہے، ایسے دس ہزار افراد میں سے چار کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر ایلزبیتھ موسٹوسکی کا کہنا ہے: ’ان افراد کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہیں جن کو زیادہ غصہ آتا ہے۔‘

تاہم اس تحقیق میں یہ نہیں معلوم کیا گیا کہ غصہ کیوں دل کے دورے کا سبب بنتا ہے۔