وہ انجنیئر جس نے اپنے دل کا علاج خود کیا

- مصنف, سمتھا منداسد
- عہدہ, ہیلتھ رپورٹر، بی بی سی نیوز
ٹال گولسورتھی انجنیئر ہیں اور چیزوں کو کھول کر ٹھیک کرنا اور پھر واپس جوڑ دینا ان کے لیے معمول کی بات ہے۔
لیکن تیس سال سے زیادہ عرصے تک وہ ایک ایسے جان لیوا مسئلے سے دوچار رہے جس کا حل آسان نہیں تھا۔
پھر اپنے گھر کے باغیچے میں کام کرتے ہوئے انہیں ایک ترکیب سوجی جسے انہوں نے ہوائی جہازوں کی انڈسٹری میں استعمال ہونے والے چند بنیادی عوامل کے ساتھ ملا کر اپنے ہی دل کے علاج کے لیے ایک ’سادہ‘ حل تخلیق کیا۔
اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹروں کو اس بات پر راضی بھی کر لیا کہ وہ یہ طریقۂ کار ان پر استعمال کریں۔
برطانیہ کے شہر گلوسٹرشائر سے تعلق رکھنے والے 57 سالہ انجنیئر کے اس آپریشن کو نو سال گزر چکے ہیں اور اور ان کے اس طریقے سے اسی عارضۂ دل میں مبتلا 40 سے زیادہ افراد کا علاج کیا جا چکا ہے۔
گولسورتھی اب یورپی ڈاکٹروں کو اس بات کے لیے راضی کر رہے ہیں کہ وہ روایتی علاج کے مقابلے میں ان کی تیار کردہ ڈیوائس کا ٹیسٹ کریں۔
ٹال گولسورتھی کو ’مارفن سنڈروم‘ ہے جس میں خلیوں میں نقص پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ خلیے جسم کے اہم اعضا کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ ان کی ساخت کو نقصان نہ پہنچے اور وہ اپنی جگہ پر رہیں۔ لیکن جن افراد میں یہ بیماری شدت اختیار کر جائے انہیں آنکھوں، جوڑوں اور دل کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جب دل جسم کے مختلف حصوں میں خون مہیا کرتا ہے تو دل سے نکلنے والی اہم رگ خون کی مقدار کے مطابق پھول جاتی ہے اور زیادہ تر لوگوں میں پھر اپنی اصل شکل میں واپس آجاتی ہے۔ لیکن جن لوگوں کو مارفن سنڈروم کی بیماری ہوتی ہے ان میں یہ رگ پھولنے کے بعد اصل شکل میں واپس نہیں آتی اور وقت کے ساتھ اس کے حجم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گولسورتھی کو کم عمری میں ہی یہ معلوم ہو گیا تھا کہ انہیں یہ بیماری لاحق ہے اور ایک دن ان کی یہ رگ اتنی پھول جائے گی کہ اس کے پھٹنے کا خدشہ تھا۔ انہیں 2000 میں ایک معمول کے طبی معائنے کے بعد یہ بتایا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس کی سرجری کروانے کے بارے میں سوچیں۔
لیکن ان کے علاج کے لیے جو آپشنز موجود تھے وہ ان سے خوش نہیں تھے۔ اس بیماری کی روایتی سرجری ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے جس میں اس رگ کے پھولے ہوئے حصے کو کاٹ کر اس کی جگہ مصنوعی پیوند کاری کر دی جاتی ہے۔ اس میں بعض اوقات ڈاکٹروں کو دل کے والو بھی کاٹنے پڑتے ہیں اور ان کی جگہ سٹیل سے بنے والو لگا دیے جاتے ہیں۔

لیکن دل میں سٹیل کے والو ہونے کا مطلب یہ تھا کہ گولسورتھی کو ساری عمر خون کو پتلا کرنے والی دوائی لینی پڑے گی تاکہ جسم میں خون کے بہاؤ میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
گولسورتھی چاق و چوبند انسان تھے اور سکیئنگ بھی کرتے تھے اس لیے وہ اس علاج کے بعد پیش آنے والی صورتِ حال کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں چاہتا تھا کے میری زندگی اس طرح گزرے اس لیے میں نے سوچا کہ شاید میں کوئی ایسی ترکیب سوچ سکتا ہوں جو کم پیچیدہ ہو اور جس سے میرے دل کے کسی بھی حصے کو جدا نہ کرنا پڑے۔‘
تو انہوں نے خود اس کا حل نکالا۔
ان کا کہنا ہے’ اگر ایک پانی کا پائپ لیک کر رہا ہو اور میں اس کے گرد ٹیپ لگا دوں تو یہ لیک ہونا بند ہو جائے گا۔ یہ ایک سادہ سا طریقہ ہے اور ہم سب نے اپنے گارڈن میں ایسا کیا ہے۔‘
ڈاکٹروں کو اس تکنیک کے لیے راضی کرنا آسان نہیں تھا لیکن انہوں نے لندن کے گائے ہسپتال کے پروفیسر ٹام ٹریژر اور برامپٹن ہسپتال کے پروفیسر جان پیپر کو کسی طرح راضی کر لیا۔
اس تکنیک کو عملی شکل دینے میں تین سال لگے۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسی غلاف نما ڈیوائس بنائی گئی جو پھولی ہوئی رگ کے گرد لگائی جا سکتی تھی تاکہ اس سپورٹ ملے اور اس کا حجم مزید نہ بڑھے۔
اس ڈیوائس کا استعمال سب سے پہلے گولسورتھی کے پر ہی کیا گیا۔
نو سال قبل دو گھنٹے دورانیے کا یہ آپریشن رائل پرومپٹن ہسپتال میں کیا گیا تھا اور اتنا عرصہ گزرنے کے بعد گولسورتھی کی دل کی رگ کے حجم میں آج تک مزید اضافہ نہیں ہوا۔
گلسورتھی کہتے ہیں کہ ’میری رگ اچانک ٹھیک ہوگئی۔ میں آسانی سے سانس لینے اور سونے لگا اور اس طرح سے آرام کرنے لگا جو میں نے سالوں سے نہیں کیا تھا۔‘
گولسورتھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ شروع میں اس پروجیکٹ میں ان کی دلچسپی کی سراسر خود غرضی تھی لیکن میڈیکل ٹیم نے اب تک اس تکنیک کے ذریعے 40 سے زیادہ لوگوں کا علاج کر چکی ہے۔
فٹبالر اینڈریو ایلس گولسورتھی کی اس تخلیق سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
الیس کا کہنا تھا کہ صرف 27 سال کی عمر میں ایک ایسے تجربے سے گزرنا بہت مشکل تھا جو کہ زیادہ افراد پر ابھی استعمال نہیں ہوا تھا لیکن وہ خوش ہیں کہ انہوں نے ایسا کیا۔
اپنی سرجری کے پانچ سال بعد وہ صحت مند ہیں اور ان کے حالیہ سکین سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی رگ کے حجم میں کوئی فرق نہیں آیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں کبھی کوئی عارضۂ قلب تھا ہی نہیں۔‘
کئی دوسرے آپریشنز کی طرح یہ آپریشن بھی خطرے سے خالی تو نہیں۔ کئی مریضوں کا علاج کامیاب رہا، لیکن پیچیدگیوں کی وجہ سے ایک مریض کی آپریشن کے دوران موت ہوگئی تھی۔
شیفیلڈ ٹیچنگ ہسپتال این ایچ ایس ٹرسٹ کے پروفیسر کووپر کا، جو اس پروجیکٹ کا حصہ نہیں تھے، کہنا ہے کہ ’گولسورتھی ایک ذہین انجنیئر ہیں اور دور اندیش بھی۔ این ایچ ایس میں اپنی اس تخلیق کو متعارف کروا لینا بہت بڑی کامیابی ہے۔‘
’لیکن ہم 20 سال سے روایتی طریقے سے علاج کر رہے ہیں اور اس سے ثابت ہوا ہے کہ یہ ایک محفوظ اور موثر طریقہ ہے جس سے کئی جانیں بچائی جا چکی ہیں۔‘







