رشتہ داروں کی اچانک موت پر اپنے دل کا معائنہ کرائیں

 برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق ایک سادہ سے ٹیسٹ کی مدد سے سینکڑوں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں

،تصویر کا ذریعہSPL

،تصویر کا کیپشن برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق ایک سادہ سے ٹیسٹ کی مدد سے سینکڑوں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں

ماہرین کا کہنا ہے جن افراد کے قریبی رشتہ داروں کی اچانک موت واقع ہو جاتی ہے ان میں دل کی بیماری کی پوشیدہ علامات کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ میں ہر روز جن 12 جوان افراد کی اچانک موت واقع ہو جاتی ہے ان میں زیادہ تر کو دل کی مورثی بیماری لاحق ہوتی ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ خون کے ایک سادہ سے ٹیسٹ سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کیا ان کے قریبی رشتہ داروں کو بھی اسی قسم کے مسائل درپیش ہیں۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے زور دیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ایسے ٹیسٹ کرائیں۔

انگلینڈ اور ویلز میں جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ رشتہ داروں میں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرانے کی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ ان کے پیاروں کی اچانک موت کے بعد سب سے پہلے موت کے بارے میں انھی سے طبی تحقیقات کی جاتی ہیں۔

دل کی مورثی بیماری کا پتہ ای سی جی کے ذریعے لگایا جا سکتا ہے لیکن اس وقت جن لوگوں کو دل کی بیماری کا خطرہ ہوتا ہے ان میں سے ہر ایک یہ ٹیسٹ نہیں کراتا۔

اس کے علاوہ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر دل کی صحت کے بارے میں echocardiogram ٹیسٹ بھی کرانا چاہیں۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ بہتر ٹیسٹ کرنے سے سینکڑوں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے اور یہ سہولت ہر اس شخص کو دی گئی ہے جس کے کسی عزیز کی دل کی مورثی بیماری کے سبب موت واقع ہو گئی ہو۔

ٹیسٹ کرنے کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ تمام افراد میں دل کی بیماری کی علامات نہ ملیں، لیکن اگر کسی میں دل کی مورثی بیماری کی علامات موجود ہیں تو دل کو درپیش خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر پیٹر ویسبرگ کے مطابق: ’کسی عزیز کی موت کی صورت میں لوگوں کے پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندان میں دل کی مورثی بیماری کے بارے میں معلوم کر سکیں۔

’مشکوک حالات میں موت کے بعد بھی اس کے خاندان کے افراد اپنے طبی ٹیسٹ نہیں کراتے، حالانکہ ان کی زندگی خطرے میں ہو سکتی ہے اور اس کے خاندان کو ایک اور صدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک سادہ ٹیسٹ چیزوں کو درست سمت میں لا سکتا ہے۔‘