لندن: کمزور پڑتے دل کا پہلا کامیاب آپریشن

سیوکٹ گوسر(دائیں جانب) پہلے مریض ہیں جن کا یہ آپریشن کیا گیا
،تصویر کا کیپشنسیوکٹ گوسر(دائیں جانب) پہلے مریض ہیں جن کا یہ آپریشن کیا گیا

برطانیہ میں پہلی بار ایک کمزور پڑتے ہوئے دل کو زیادہ صحت مند رکھنے کا کامیاب آپریشن کیا گیا ہے۔

ہارٹ فیلیئر (heart failure) کی بیماری میں دل بتدریج کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایسے مریضوں کے دل کو جسم میں خون کی گردش کو رواں رکھنے کے لیے سخت مشقت کرنا پڑتی ہے اور معمولی سی ورزش سے بھی ان کا سانس پھول جاتا ہے۔

58 سالہ سیوکٹ گوسر برطانیہ کے پہلے مریض ہیں جن کے دل کا یہ آپریشن کیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ آپریشن کے بعد ان کے دل کے حالت میں ’قابل ذکر حد‘ تک بہتری آئی ہے۔

سرجنوں نے طبی طریقے ’ کارڈیک سواِنگ‘ یا دل کی سلائی کے طریقے کا استعمال کرتے ہوئے متاثرہ ٹشوز کو ہٹا کر دل کے سائز کو کم کیا تاکہ یہ زیادہ آسانی سے خون کی گردش کو جاری رکھ سکے۔ یہ آپریشن لندن کے کنگز جارج ہسپتال میں کیا گیا۔

دل کے فیل ہونے کا ایک عام سبب یہ ہے کہ دل کو خون فراہم کرنے والی شریانیں بند ہو جاتی ہیں اور اس کی وجہ سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے، دل کے پٹھے مردہ ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ سکار ٹشوز لے لیتے ہیں جو دھڑکنے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ سکار ٹشوز پھیلتے ہیں اور دل کے چیمبرز زیادہ بڑے ہو جاتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ دل کو ہر بار دھڑکنے کے ساتھ زیادہ مقدار میں خون باہر نکالنا یا پمپ کرنا پڑتا ہے۔

کمزور دل پوری طرح سے یہ کام نہیں کر سکتا ہے اور سیڑھیاں چڑھنے جیسے روزمرہ معمولی کاموں کو سخت محنت طلب بنا دیتا ہے۔

دل کے اس آپریشن میں ڈاکٹروں نے ایک تار استعمال کی۔ دل میں سوراخ کرنے کے لیے اس کی دونوں جانب آہنی دہانے تھے۔

اس تار کی مدد سے سکار ٹشوز کو کامیابی سے ہٹا دیا گیا جس کی وجہ سے دل کے ایک چیمبر کا حجم ایک چوتھائی کم ہو گیا۔

دل میں سکار ٹشوز خاکستری رنگ میں
،تصویر کا کیپشندل میں سکار ٹشوز خاکستری رنگ میں

کنگز کالج ہسپتال میں دل کی سرجری کے پروفیسر اولف وینڈلر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ طریقۂ کار جو ہم پہلی بار برطانیہ میں استعمال کر رہے ہیں، اس میں کسی کو دل کی دھڑکن کو روکنے کی ضرورت نہیں ہو گی، اور ضروری نہیں کہ مریض کو دل اور پھییھڑوں کی مشین پر ڈالا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا: ’اس عمل میں زیادہ چیرپھاڑ کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘

انہوں نے کہا کہ یورپ بھر کے ہسپتالوں میں یہ طریقۂ علاج تجرباتی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کی مدد سے مریضوں کی زندگیوں پر فرق پڑ سکے گا۔

اس سے ملتے جلتے ایک اور طریقے میں چھاتی کو چیر کر اور پھر دل کو روک کر سرجری کی جاتی ہے، لیکن یہ بہت پیچیدہ عمل ہے۔

ماہرینِ قلب کو امید ہے کہ اس نئے طریقے کی مدد سے دھڑکتے ہوئے دل کا آپریشن کیا جا سکتا ہے اور یہ مریضوں کے لیے بہتر آپشن ہے۔