وینزویلا کی بدنام زمانہ جیل کے قیدی جو میلے کپڑوں اور چاکلیٹ کے پیکٹ کے ذریعے گھر والوں سے رابطہ کرتے

- مصنف, نوربرتو پردیس
- عہدہ, بی بی سی مندو
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
وینیزویلا کے دارالحکومت کاراکس کے قریب ایک سوشل ہاؤسنگ کمپلیکس کے چھوٹے سے فلیٹ میں آدریانا بریسینو ایک ایسی چیز اٹھا رہی ہیں جو دیکھنے میں بظاہر کچرے کا ٹکڑا لگتی ہے لیکن اس پرانے چاکلیٹ بار کے ریپر پر چھپا ہوا ایک اہم پیغام ہے۔
نیلے رنگ کی سیاہی سے اس کے اوپر لکھے گئے الفاظ آدریانا کے بیٹے کے ہیں جس میں انھوں نے اپنے والد اینجل گوڈوئے کے نام پیغام لکھا۔
اینجل گوڈوئے اس وقت وینزویلا کی بدنام زمانہ جیل ’ایل ہیلیکویڈ‘ میں قید کاٹ رہے تھے۔
پیغام میں لکھا تھا کہ ’یہ لیں ڈیڈی تاکہ حالات میں کچھ مٹھاس آئے۔ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں۔‘
ایل ہیلیکویڈ کو 1950 کی دہائی میں ایک لگژری شاپنگ سینٹر کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا لیکن یہ کبھی مکمل نہ ہو سکا اور بعد میں وینیزویلا کی خفیہ ایجنسیوں نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔
تب سے یہ جیل حکومت کی سختیوں اور دباؤ کی علامت بن گئی۔
اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ یہاں ایسے افراد کو لایا جاتا تھا جنھیں بلاوجہ گرفتار یا جبراً غائب کر دیا گیا تھا اور بعض صورتوں میں ان پر تشدد بھی کیا جاتا رہا۔
حال ہی میں رہا ہونے والے قیدیوں نے بی بی سی کو انٹرویوز میں اندرونی حالات کو نہایت سفاک قرار دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رہائی پانے والے انھی قیدیوں میں اینجل گوڈوئے بھی شامل ہیں۔ وہ صدر نکولس مادورو کے دورِ حکومت میں گرفتار کیے گئے ان سینکڑوں سیاسی قیدیوں میں سے ایک تھے جنھیں وینیزویلا کے وسیع حراستی نظام میں برسوں تک رکھا گیا۔
جنوری کے آغاز میں امریکی فوجی آپریشن کے دوران صدر مادورو کو گرفتار کیے جانے کے بعد اب تک 600 سے زائد افراد رہا ہو چکے ہیں لیکن قیدیوں کے حقوق کے گروپ ’فورو پینل‘ کے مطابق سینکڑوں افراد اب بھی جیلوں میں موجود ہیں۔
گوڈوئے ان دو قیدیوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ رہائی سے قبل انھیں جبری تنہائی اور اپنے اہلِ خانہ کو دی جانے والی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

جیل کی سختیاں
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انسانی حقوق کے کارکن ہاویئے تارازونا کو جولائی 2021 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اپنی گرفتاری کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے ہاویئے نے کہا کہ ’انھوں نے مجھے ہتھکڑی لگائی، مارا پیٹا، گالیاں دیں اور سر پر نقاب ڈال کر مجھے پولیس کی گاڑی میں ڈال دیا۔‘
انھیں علم تھا کہ وہ وینیزویلا کی ریاستی سکیورٹی ایجنسیوں کے نشانے پر ہیں لیکن پھر بھی وہ اس صورتحال کو سمجھنے میں مشکل محسوس کر رہے تھے۔
ہاویئے تارازونا نے کہا کہ ابتدائی چند گھنٹے بہت خوفناک تھے اور یہ ان کی اس آزمائش کی شروعات تھی جو ساڑھے چار سال سے زیادہ جاری رہی۔
گرفتاری کے بعد انھیں ایک چھوٹے ٹارچر سیل میں لے جایا گیا جہاں تمام نئے قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ یہ سیل چوہوں اور لال بیگوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کی بدبو ناقابلِ برداشت تھی۔
تارازونا انسانی حقوق کی تنظیم فنڈ اریڈیس کے سربراہ ہیں۔ وہ حکام کی نظر میں اس وقت آئے جب انھوں نے اعلیٰ حکومتی اہلکاروں اور پڑوسی ملک کولمبیا کے گوریلا گروہوں کے درمیان مبینہ روابط کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ہاویئے تارازونا کو اپنے بھائی جوز کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ دونوں کو ایک اور کارکن کے ساتھ ایک چھوٹے سیل میں رکھا گیا۔
کمرہ اتنا چھوٹا تھا کہ اگر وہ لیٹنا چاہتے تو باری باری لیٹتے اور ایک گٹر کے سوراخ پر گتے کا ٹکڑا رکھ کر اسے عارضی بستر بنا کر استعمال کرتے۔
قیدیوں کے حقوق کی تنظیم فورو پینل کے مطابق یہ چھوٹے سزا یافتہ سیل، جنھیں ’لٹل ٹائیگر‘ کہا جاتا ہے، وینیزویلا کے نظام جیل کی عام خصوصیت ہیں۔
تارازونا نے کہا کہ ’ہم نے وہاں 46 دن گزارے۔ پھر انھوں نے ہمیں اسی راہداری کے ایک اور حصے میں منتقل کر دیا، جو تھوڑا بڑا تھا لیکن اتنا ہی گندا اور اتنا ہی مایوس کن۔‘
وہ دن کی روشنی نہیں دیکھ سکتے تھے اور نہ ہی انھیں اندازہ ہوتا تھا کہ دن ہے یا رات۔ تارازونا نے مزید بتایا کہ محافظ انھیں کھانا غیر متوقع اوقات میں دیتے تاکہ انھیں اصل وقت کا احساس نہ ہو سکے۔

گوڈوئے کے مطابق سب سے بڑا دباؤ وہ حالات نہیں تھے جن میں انھیں رکھا گیا بلکہ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ وہ اپنے پیاروں سے دور اور بے خبر تھے۔
ان کے مطابق ’یہ اذیت ہے کہ آپ کو معلوم نہ ہو کہ آپ کے اہلِخانہ کہاں اور کیسے ہیں کیونکہ وہ آپ کو دنیا سے کاٹ دیتے ہیں۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ انھیں بغیر کسی اطلاع کے اپنے گھر کے باہر ایک بڑے گروہ نے گرفتار کیا۔ اس کے بعد انھیں 96 دن تک اپنے خاندان سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کرنے دیا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ مقصد آپ کو توڑ دینا ہوتا ہے۔‘
تین ماہ سے زیادہ گزرنے کے بعد ایک جیل اہلکار نے انھیں بتایا کہ حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ان کی اہلیہ آدریانا کو فون کرنے کی اجازت دی جائے لیکن صرف اس صورت میں جب وہ سوشل میڈیا اور پریس میں اپنی موجودگی کو کم کریں۔
آدریانا بریسینو کہتی ہیں کہ شوہر کی گرفتاری کے بعد انھیں ریاستی ٹیلی کام کمپنی سے بغیر کسی وجہ کے برطرف کر دیا گیا حالانکہ وہ وہاں 21 سال سے کام کر رہی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ بیٹے کے ساتھ گھر میں اکیلے رہنے سے وہ اتنی غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں کہ انھوں نے گھر بدلنے کا فیصلہ کیا۔
’مجھے خوف تھا کہ لوگ آ جائیں گے اور میرے گھر میں گھس جائیں گے۔‘
شوہر کی گرفتاری کے بعد ابتدائی چند ہفتوں تک انھیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں قید ہیں۔
25 دن بعد حکام نے آخرکار تصدیق کی کہ وہ ’ایل ہیلیکویڈ‘ کے اندر ہیں اور تب ہی انھیں کپڑے، دوائیں اور بستر لے جانے کی اجازت ملی اور اس کے بعد مزید وقت لگا، 96 دن کے بعد انھیں باقاعدہ ملاقاتوں کی اجازت دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہMiguel Gutiérrez, EPA/Shutterstock
دھمکیاں
ہاویئے تارازونا نے قید کے حوالے سے یادیں شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان پر بھی حکام کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا۔
’ایک تفتیش کے دوران ایک اہلکار نے کہا کہ کیا آپ اس عورت کو جانتے ہیں؟‘
یہ سوال کرتے وقت اہلکار کے ہاتھ میں تارازونا کی 70 سالہ بزرگ والدہ کی تصویر تھی جنھیں حکام نے گرفتار کر لیا تھا۔
تارازونا کے مطابق اس شخص نے دھمکی دی کہ ’وہ ویڈیو دو جو میں مانگ رہا ہوں، ورنہ تمہاری ماں جیل جائے گی۔‘
جیل حکام چاہتے تھے کہ ہاویئے تارازونا اس بات پر رضامند ہوجائیں کہ وہ دوسرے کارکنوں پر جرائم کا الزام لگائیں جس کو ریکارڈ کر لیا جائے۔
تارازونا کہتے ہیں کہ ’میں نے ہمیشہ انکار کیا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ میری ماں اس آزمائش پر قابو پا لے گی۔‘
چند گھنٹوں بعد ان کی والدہ کو رہا کر دیا گیا۔
ایک اور مسئلہ بھی تارازونا کے ذہن پر بوجھ بن چکا تھا۔ انھیں اپنے بھائی کے ساتھ جیل جانے پر ذمہ داری کا احساس تھا۔
ان کا بھائی اس این جی او کا حصہ نہیں تھا جسے تارازونا چلا رہے تھے۔ وہ صرف گرفتاری کے دن انھیں گاڑی میں لے جا رہے تھے۔
تارازونا نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’مجھے شدید احساسِ جرم تھا۔ میرا بھائی بار بار کہتا تھا کہ میری وجہ سے وہ ایسی سزا بھگت رہا ہے جو اس کا جرم ہی نہیں تھا اور یہ میرے لیے ایک بوجھ تھا۔‘
تارازونا اور گوڈوئے دونوں اپنے اوپر لگائے گئے جرائم سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے بعد انھیں مناسب قانونی نمائندگی نہیں ملی۔
تارازونا کہتے ہیں کہ انھیں اپنا وکیل رکھنے کا حق نہیں دیا گیا اور صرف سات ماہ بعد ایک سرکاری وکیل سے ملاقات کی اجازت ملی حالانکہ ان پر غداری، دہشت گردی اور نفرت انگیزی کے الزامات تھے۔
ان کے مطابق ’اپنی 1,675 دن کی حراست کے دوران انھوں نے پانچ بار سے بھی کم مرتبہ وکیل کو دیکھا۔‘
قلم سے شرٹ پر بے ترتیبی سے لکھے چند جملے
تارازونا نے اس تمام منفی اور تلخ تجربے کی وجہ سے اپنے اندر غصہ پیدا ہونے نہیں دیا۔ قید کے دوران محافظوں نے ایک کتاب اور کچھ خطوط دریافت کیے جو وہ لکھ رہے تھے۔
بطور سزا انھیں تنہائی کے سیل میں ڈال دیا گیا۔
تارازونا کے مطابق ’میں نے اس آزمائش اور اس درد میں روشنی تلاش کی۔ مجھے غور و فکر اور معافی پر کام کرنے کا موقع ملا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس یقین کے ساتھ باہر آیا کہ وینیزویلا کے عوام کو دوبارہ مفاہمت کی طرف بڑھنا چاہیے، دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے کیونکہ یہ صورتحال جس میں ہم جی رہے ہیں، المیہ ہے۔ ایک نسل در نسل صدمہ ہے۔
اپنے خاندانی گھر میں آدریانا بریسینو ایک پرانی ٹی شرٹ اٹھا کر دکھاتی ہیں جس پر قلم سے چند جملے بے ترتیبی سے لکھے گئے ہیں۔

چاکلیٹ بار پر پیغامات لکھ کر گوڈوئے کو ان کے گھر والے جیل میں نوٹس بھیجتے تھے اور وہ جواب میلے کپڑوں پر لکھ کر باہر بھیجتے تھے۔
کسی پر لکھا ہوتا کہ ’آدریانا، تم دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہو۔‘
بیٹے کے لیے بھی ایک پیغام تھا کہ ’جا کر اپنی کلاسز میں بہترین کارکردگی دکھاؤ، ٹھیک ہے نا۔‘
گوڈوئے کہتے ہیں کہ ’ایل ہیلیکویڈ میں اس طرح کے پیغامات بھیجنے کے طریقے سامنے آئے۔ یہ بہت سے قیدیوں اور ان کے خاندانوں کے درمیان پل کا کام کرتے تھے۔‘
اگرچہ حکام کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے بعد انھیں اپنی بیوی سے ملاقات کی اجازت ملی تھی لیکن یہ خفیہ اور ذاتی پیغامات ان کے لیے بہت اہمیت رکھتے تھے۔
وینیزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے جنوری میں ملک کی پارلیمان کو بتایا کہ ’ایل ہیلیکویڈ‘ کو پولیس اہلکاروں کے خاندانوں اور اردگرد کی کمیونٹیز کے لیے سماجی، کھیلوں اور ثقافتی مرکز میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
ان تمام قیدیوں کی رہائی کا خیر مقدم کیا گیا لیکن کچھ انسانی حقوق کے گروپوں نے اس اقدام کو ماضی کو دھونے کی کوشش قرار دیا۔
تارازونا کی طرح، گوڈوئے بھی امید کرتے ہیں کہ ملک پرامن انداز میں آگے بڑھ سکے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اتنے ظلم، اتنی سفاکیت، اتنی برائی کے بعد یہ ناقابلِ یقین لگتا ہے کہ میں لوگوں سے، اپنے ساتھی سیاسی قیدیوں سے بھی کہہ رہا ہوں کہ نفرت، کینہ، تلخی اور بے چینی کا ہر نشان اپنے دلوں سے نکال دو۔‘
ان کے مطابق ’ملک کے مفادات کو سب سے پہلے رکھو، چاہے سیاسی جماعت ہو یا ذاتی خواہش۔ آگے بڑھو بغیر نفرت، کینہ یا تلخی کے تاکہ ہم اس شاندار وینیزویلا کو تعمیر کر سکیں۔‘













