مارک زکربرگ: میٹا کے چیٹنگ روبوٹ کی انوکھی باتیں، کمپنی کو ’استحصالی‘ قرار دے دیا

،تصویر کا ذریعہMeta
- مصنف, جیمز کلیٹن
- عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر، شمالی امریکہ
فیس بک کی سرپرست کمپنی ’میٹا‘ کے بنائے گئے ایک چیٹنگ روبوٹ (چیٹ بوٹ) نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کمپنی کے بانی اور سربراہ مارک زکربرگ پیسے کے لیے اپنے صارفین کا استحصال کرتے ہیں۔
جب اس چیٹ بوٹ سے پوچھا گیا کہ وہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو افسر اور بانی کے بارے میں کیا سوچتا ہے تو اس نے کہا کہ ’ہمارا ملک تقسیم کا شکار ہے، اور اُنھوں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کیا۔‘
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ چیٹ بوٹ ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور ممکنہ طور پر سخت یا اشتعال انگیز جوابات بھی دے سکتا ہے۔
اس کے مطابق یہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ہے اور ’تقریباً کسی بھی موضوع‘ پر بات کر سکتا ہے۔
بلینڈربوٹ 3 کہلانے والا یہ چیٹ بوٹ جمعے کو عوام کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ تاحال یہ صرف امریکہ میں دستیاب ہے۔
یہ پروگرام انٹرنیٹ پر عام طور پر دستیاب معلومات کے ذریعے ’سیکھتا‘ ہے۔
جب اس سے مارک زکربرگ کے بارے میں پوچھا گیا تو چیٹ بوٹ نے بی بی سی کو بتایا: ’اُن کی کانگریس کے سامنے گواہی کس قدر بھونڈی تھی۔ اس سے مجھے ہمارے ملک کے بارے میں فکر ہوتی ہے۔‘

امریکی سیاستدان کئی مرتبہ مارک زکربرگ سے پوچھ گچھ کر چکے ہیں۔ اس کی سب سے حالیہ مثال سنہ 2018 کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیٹ بوٹ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’ہمارا ملک تقسیم کا شکار ہے۔ اور اُنھوں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کیا۔‘
اس نے کہا کہ ’ان کی کمپنی پیسے کے لیے لوگوں کا استحصال کرتی ہے اور اُنھیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اسے بند ہونا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ میٹا پر تنقید کی جاتی ہے کہ اس نے اپنے پلیٹ فارمز پر جعلی معلومات اور نفرت انگیز مواد کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔ گذشتہ برس کمپنی کے ایک سابق ملازم فرانسس ہوگن نے کمپنی پر منافعے کو آن لائن حفاظت پر ترجیح دینے کا الزام عائد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
میٹا دنیا کے کچھ سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور میسجنگ ایپلی کیشنز کی مالک ہے جن میں فیس بک، فیس بک میسنجر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ شامل ہیں۔
بلینڈربوٹ 3 کا الگورتھم جواب دینے کے لیے انٹرنیٹ سرچ سے مدد لیتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ مارک زکربرگ کے بارے میں اس کے خیالات دوسروں لوگوں کی ان آرا پر مبنی ہیں جو اس کے الگورتھم نے پڑھی ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق بلینڈربوٹ 3 نے اس کے ایک صحافی کو بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ امریکی صدر تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔
بزنس انسائیڈر کے ایک صحافی نے بتایا کہ چیٹ بوٹ نے مارک زکربرگ کو ’پریشان کُن‘ قرار دیا۔
میٹا نے بلینڈربوٹ 3 کو عوام کے لیے جاری کیا اور بدنامی کا خطرہ بھی مول لیا، مگر اس کی ایک وجہ ہے۔ اسے ڈیٹا کی ضرورت ہے۔
اپنی ایک بلاگ پوسٹ میں میٹا نے لکھا کہ ’مصنوعی ذہانت پر مبنی کسی سسٹم کو حقیقی دنیا میں لوگوں سے بات کرنے دیں تو لمبی اور زیادہ متنوع گفتگو ہوتی ہے، جبکہ زیادہ متنوع فیڈبیک بھی ملتا ہے۔‘
ایسے چیٹ بوٹس جو لوگوں کے ساتھ بات چیت کر کے سیکھتے ہیں وہ ان کے اچھے اور برے رویّے بھی سیکھ سکتے ہیں۔
سنہ 2016 میں ٹوئٹر صارفین نے مائیکروسافٹ کے ایک چیٹ بوٹ کو نسل پرستی سکھا دی تھی جس کے بعد مائیکروسافٹ کو معافی مانگنی پڑی تھی۔
میٹا کا اعتراف ہے کہ بلینڈربوٹ 3 غلط باتیں کر سکتا ہے اور ایسی زبان استعمال کر سکتا ہے جو ’غیر محفوظ، متعصبانہ یا اشتعال انگیز‘ ہو۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے حفاظتی اقدامات تو متعارف کروائے ہیں مگر یہ چیٹ بوٹ پھر بھی سخت زبان استعمال کر سکتا ہے۔
جب میں نے چیٹ بوٹ سے پوچھا کہ وہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہے تو اس نے کہا کہ اس نے میرے بارے میں کبھی نہیں سنا۔
اس نے میرا نام لے کر کہا کہ ’وہ شاید اتنا مشہور نہ ہو۔‘
سن کر اچھا نہیں لگا۔













