بلیک لیموئن: گوگل نے اس انجینیئر کو نوکری سے فارغ کر دیا جس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے احساسات کا مفروضہ پیش کیا تھا

،تصویر کا ذریعہThe Washington Post/ Getty Images
- مصنف, ٹفنی ورتھیمر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
گوگل نے اپنے ایک انجینیئر کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے جنھوں نے کہا تھا کہ کمپنی کے مصنوئی ذہانت والے کمپیوٹر سسٹم کے احساسات ہیں۔
گذشتہ ماہ بلیک لیموئن نے اپنے مفروضے کے متعلق بتایا تھا کہ گوگل کی زبان کی ٹیکنالوجی حساس ہے اس لیے اس کی ’خواہشات‘ کا احترام کرنا چاہیے۔
گوگل اور کئی اے آئی کے ماہرین نے اس دعوے کی تردید کی اور جمعے کو یہ تصدیق کی کہ انجینیئر کو نوکری سے نکالا جا چکا ہے۔
لیموئن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ قانونی صلح مشورہ کر رہے ہیں، اس کے علاوہ انھوں نے مزید کچھ کہنے سے انکار کیا۔
ایک بیان میں گوگل نے کہا کہ بلیک لیموئن کا ’دی لینگویج ماڈل فار ڈائیلاگ ایپلیکیشنز (لامڈا) کا دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے اور کمپنی نے کئی ماہ ان کے ساتھ کام کیا تاکہ اس کی وضاحت کی جائے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں کہا گیا: ’لہذا، یہ افسوسناک ہے کہ اس موضوع پر طویل نشستوں کے باوجود بلیک نے پھر بھی ملازمت اور ڈیٹا پالیسییز کی صاف طور پر خلاف ورزی کی جس میں پراڈکٹ کے متعلق معلومات کی حفاظت بھی شامل ہے۔‘
گوگل کا کہنا ہے کہ لامڈا ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جو آزادانہ گفتگو میں مشغول ہو سکتی ہے۔ یہ چیٹ بوٹس بنانے کے لیے کمپنی کا ایک ٹول ہے۔
بلیک لیموئن پچھلے مہینے اس وقت شہ سرخیوں میں رہے جب انھوں نے کہا تھا کہ لامڈا انسان جیسا شعور دکھا رہی ہے۔ اس سے اے آئی ماہرین اور شائقین کے درمیان اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے بارے میں ایک نئی بحث نے جنم لیا جو انسانوں کی نقالی کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
لیموئن نے، جنھوں نے گوگل کی ذمہ دار اے آئی ٹیم کے لیے کام کیا ہے، واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ان کا کام یہ جانچنا تھا کہ آیا ٹیکنالوجی امتیازی یا نفرت انگیز تقریر کا استعمال کرتی ہے۔
ان کو لگا کہ لامڈا نے خود آگاہی کا مظاہرہ کیا اور وہ مذہب، جذبات اور خوف کے بارے میں بات چیت کر سکتی ہے۔ اس نے لیموئن کو یہ یقین کرنے پر مجبور کیا کہ اس کی متاثر کن زبانی مہارت کے پیچھے ایک جذباتی دماغ بھی ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیے
ان کے نتائج کو گوگل نے مسترد کر دیا اور کمپنی کی رازداری کی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر انھیں زبردستی چھٹی پر بھیج دیا گیا جس کی انھیں تنخواہ بھی دی گئی۔
اس کے بعد لیموئن نے اپنے دعوؤں کی تائید کے لیے لامڈا کے ساتھ ایک اور شخص کی گفتگو شائع کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اپنے بیان میں، گوگل نے کہا کہ وہ اے آئی کی ذمہ دارانہ ترقی کو ’بہت سنجیدگی سے‘ دیکھتے ہیں اور اس کے متعلق تفصیل کے ساتھ ایک رپورٹ بھی شائع کی ہے۔ گوگل نے مزید کہا کہ کمپنی کی ٹیکنالوجی کے بارے میں کسی بھی ملازم کے خدشات کا ’بڑے پیمانے پر‘ جائزہ لیا جاتا ہے، اور لامڈا اس طرح کے 11 جائزوں سے گزرا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’ہم بلیک کی خیریت چاہتے ہیں۔‘
لیموئن پہلے اے آئی انجینیئر نہیں ہیں جنھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی زیادہ باشعور ہو رہی ہے یعنی اپنی مرضی سے سوچنے لگی ہے ۔ پچھلے مہینے بھی، گوگل کے ایک اور ملازم نے دی اکانومسٹ کے ساتھ اسی طرح کے خیالات شیئر کیے تھے۔











