ڈیجیٹل ٹوئن: وہ ٹیکنالوجی جو انسانوں سے لے کر پوری زمین تک کی بہتری میں مدد دے سکتی ہے

ایک شخص کا ڈیجیٹل جڑواں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبعض ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کی خود سے سوچنے والی ڈیجیٹل نقلیں ایک دہائی کے اندر تیار ہو سکتی ہیں
    • مصنف, جین ویکفیلڈ
    • عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر

ہم میں سے اکثر کا واسطہ ایسے کسی دوست سے پڑا ہو گا جس نے بتایا ہو گا کہ اس نے ہمارے ہم شکل کو دیکھا ہے، ایک ایسا شخص جو بالکل ہماری شکل و شباہت والا تھا۔

لیکن ذرا تصور کیجیے کہ اگر آپ خود اپنا ایک جڑواں شخص بنا سکیں، جو بالکل ہی آپ جیسا ہو مگر رہے گا صرف ڈیجیٹل دنیا میں۔

ہم ایک ایسے عہد میں رہ رہے ہیں جہاں جو چیز حقیقی دنیا میں موجود ہے اس کی شبیہ یا نقل ڈیجیٹل دنیا میں بھی پائی جاتی ہے، چاہے وہ ہمارے شہر ہوں، کاریں یا گھر ہوں، حتیٰ کہ ہماری اپنی ذات تک۔

اور جیسا کہ میٹاورس کا بہت چرچا ہے، اب ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا آباد کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں جس میں آپ اپنا جڑواں بنا سکیں گے۔

ڈیجیٹل توام طبعی طور پر موجود کسی چیز کی ہو بہو نقل ہوتی ہے مگر ایک خاص مشن کے ساتھ، اور مشن ہے اصل یا حقیقی شخص کو اس کی شخصیت، کام اور رویے کے بارے میں رائے دینا تاکہ حقیقی شخص کو مزید بہتر بننے میں مدد دی جا سکے۔

ابتدا میں ایسے توام تھری ڈی کمپیوٹر ماڈل تھے مگر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایسی ڈیجیٹل چیزیں تیار کر لی گئی ہیں جو مستقل سیکھ رہی ہیں اور اپنے اصل کو بہتر بنانے میں مدد دے رہی ہیں۔

ٹیکنالوجی تجزیہ نگار راب اینڈرلے کا خیال ہے کہ ہم سوچنے والے انسانی ڈیجیٹل توام ’اس عشرے کے اختتام سے پہلے بنا لیں گے۔‘

راب اینڈرلے

،تصویر کا ذریعہIntel Free Press

،تصویر کا کیپشنراب اینڈرلے کا کہنا ہے کہ انسانوں کے ڈیجیٹل توام بناتے وقت بعض اخلاقی پہلوؤں کے بارے میں غور کرنا پڑے گا

ان کا کہنا ہے کہ ’ایسی جڑواں شخصیتیں بنانے سے پہلے بہت زیادہ سوچنے اور ان کے اخلاقی پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ سوچنے کی حامل ہماری نقول ہمارے باسز کے لیے بڑی کارآمد ہوں گی۔‘

ذرا سوچیے کہ اگر کسی روز آپ کی کمپنی آپ کا ڈیجیٹل توام بنا کر آپ سے کہے کہ ’ہاں بھئی، ہمارے پاس آپ کا ڈیجیٹل توام آ گیا ہے جو تنخواہ بھی نہیں مانگتا تو پھر ہم آپ کو کام پر کیوں رکھیں؟‘

اینڈرلے کا خیال ہے کہ آنے والے میٹاورس دور میں فیصلہ کن سوال ڈیجیٹل توام کی ملکیت کا ہو گا۔

اواٹار کی شکل میں انسانی توام بنانے کا سفر شروع ہو چکا ہے مگر اس وقت یہ اپنی ابتدائی اور خام حالت میں ہیں۔

مثال کے طور پر میٹا (سابق فیس بک) کے ورچوئل پلیٹ فارم ’ہورائزن ورلڈز‘ میں آپ اپنے اواٹار پر اپنا چہرہ لگا سکتے ہیں لیکن آپ اس کی ٹانگیں نہیں لگا سکتے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی انتہائی ابتدائی مراحل میں ہے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی میں اے آئی کی محقق پروفیسر سینڈرا واچر کہتی ہیں کہ ’اس میں سائنس فِکشن والے ناولوں کی جھلک ہے اور اس وقت یہ اسی مرحلے پر ہے۔‘

پروفیسر سینڈرا واچر

،تصویر کا ذریعہSandra Wachter

،تصویر کا کیپشنپروفیسر سینڈرا واچر کہتی ہیں کہ انسانی ڈیجیٹل جڑواں کا وجود اس وقت افسانوی حد تک ہی ہے

ان کا کہنا ہے کہ ’کوئی قانون کی تعلیم حاصل کرے گا، بیمار پڑے گا، یا کسی جرم کا ارتکاب کرے گا، اس کا انحصار اب بھی فطرت (نیچر) اور پرورش (نرچر) کے سوال پر ہے۔‘

اس کا انحصار خوش قسمتی یا بد قسمتی، دوستوں، فیملی، ان کے سماجی معاشی پس منظر اور ماحول اور ان کی ذاتی پسند نا پسند پر ہو گا۔‘

البتہ وہ وضاحت کرتی ہیں کہ اس وقت اے آئی ’ان پیچیدہ باتوں کے بارے میں پیشگوئی کرنے سے قاصر ہے۔ لہٰذا کسی شخص کی زندگی کو مکمل طور پر سمجھنے اور اس کی زندگی کا آغاز سے انجام تک کا ماڈل تیار کرنے میں ابھی بہت وقت لگے گا، یہ بھی نہیں معلوم کہ ایسا ہو بھی سکے گا۔‘

اس کی جگہ اس وقت مصنوعات، ان کی تقسیم اور شہری منصوبہ بندی کے شعبے ایسے ہیں جہاں پر ڈیجیٹل توام خاصے تفصیلی اور ترقی یافتہ شکل میں موجود ہیں۔

فارمولا ون ریسنگ میں میکلارن اور ریڈ بُل کی ٹیمیں اپنے کاروں کے ڈیجیٹل ٹوئنز استعمال کرتی ہیں۔

بین الاقوامی ڈاک کمپنی ڈی ایچ ایل اپنے گودام اور سپلائی چین کا ایک ڈیجیٹل نقشہ تیار کر رہی ہے تاکہ وہ زیادہ بہتر طریقے سے خدمات فراہم کر سکے۔

میکلارن کی موجودہ فارمولا ون کار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیکلارن کی موجودہ فارمولا ون کار کی مدد سے اس کی ڈیجیٹل جڑواں کار (نقل) تیار کی گئی

اسی طرح سے ہمارے شہروں کی نقلیں یعنی ان جیسے شہر ڈیجیٹل دنیا میں آباد کیے جا رہے ہیں۔ شنگھائی اور سنگاپور دونوں ہی کے ڈیجیٹل جڑواں موجود ہیں۔ یہ نقول بنانے کا مقصد ان شہروں کے ڈیزائن، عمارتوں، سڑکوں اور آمدورفت کے وسائل کو بہتر بنانا ہے۔

سنگاپور کے ڈیجیٹل جڑواں کا ایک مقصد لوگوں کی ان راستوں کی طرف رہنمائی کرنا ہے جہاں آلودگی کم ہو۔ دوسری جگہوں پر اس ٹیکنالوجی سے ایسے مقامات کی نشاندہی میں مدد لی جا رہی ہے جہاں پر کوئی نیا ڈھانچہ کھڑا کیا جا سکے، مثلاً کوئی زیر زمین ٹرین لائن وغیرہ۔ دنیائے عرب میں نئے شہر بسائے جا رہے ہیں، حقیقی دنیا میں بھی اور ڈیجیٹل ورلڈ میں بھی۔

فرنچ سافٹ ویئر کمپنی داسالٹ سسٹمز کا کہنا ہے کہ اس کی ڈیجیٹل جڑواں بنانے والی ٹیکنالوجی میں ہزاروں کمپنیوں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

یہ کمپنی دوسرے اداروں کو مستقبل کے منصوبوں پر عمل درآمد کرنے میں مدد دے رہی ہے، ان میں جیٹ پیکس، فلوٹِنگ ویلز والی موٹر سائیکلیں اور اڑنے والی کاریں شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا ایک حقیقی نمونہ بھی موجود ہے مگر اس میں نکھار ڈیجیٹل سپیس کے اندر لایا جا رہا ہے۔

مگر ڈیجیٹل ٹوئن کی اصل قدر و قیمت صحت کے شعبے میں سامنے آ رہی ہے۔

شینگھائی کا افق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچینی حکام نے شنگھائی کی نقل یعنی ڈیجیٹل جڑواں بنوا رکھا ہے جس کی مدد سے وہ شہر کی مستقبل میں ترقی کا ماڈل تیار کرتے ہیں

دا سالٹ کا لیوِنگ ہارٹ ایک ایسا منصوبہ ہے جس کے تحت انسانی دل کا بالکل صحیح نمونہ تیار کر کے ڈاکٹر اس پر مختلف آلات اور طبی ساز و سامان استعمال کر رہے ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ مختلف حالتوں میں اس پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس منصوبے کا آغاز ڈاکٹر سٹیو لیوِن نے ذاتی وجوہ کی بنا پر کیا تھا۔ ان کی بیٹی کو دل کی بیماری تھی اور چند برس قبل جب ان کی عمر 30 برس سے کچھ کم تھی تو ان کے ہارٹ فیل ہونے کا خطرہ بہت بڑھ گیا۔ تب انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کے دل کا ڈیجیٹل نمونہ یا ورچوئل ریئلیٹی بنائیں گے۔

امریکہ میں بوسٹن چلڈرن ہاسپٹل میں اس ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر حقیقی مریضوں کی دل کی حالت کے بارے میں تفصیل اکٹھی کی جا رہی ہے جبکہ لندن کے اورمنڈ سٹریٹ ہاسپٹل میں انجینیئروں اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ایسے آلات کی آزمائش میں مصروف ہے جو کم پائی جانے والی قلبی بیماریوں میں مبتلا بچوں کے علاج میں معاون ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

یہ فرم اب مزید انسانی اعضا جیسا کہ آنکھیں اور دماغ وغیرہ کی ڈیجیٹل نقل تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

داسالٹ سسٹمز کے عالمی امور کی ڈائریکٹر سیویرِن ٹراؤلیٹ کا کہنا ہے کہ ’ایک وقت آئے گا جب ہم ڈیجیٹل جڑواں بنا لیں گے اور ہم امراض سے بچانے والی ادویات تیار کر سکیں گے اور جب آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں گے تو وہ آپ کو ایسی دوا دے گا جو صرف آپ کے لیے بنی ہو گی۔‘

انسانی اعضا کے ڈیجیٹل نمونے تیار کرنے سے بھی بہت بڑا منصوبہ پوری زمین کا ڈیجیٹل ورژن بنانا ہے۔

امریکی سافٹ ویئر فرم اینوِیڈیا ’اومنیِورس‘ کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلاتی ہے جس کا مقصد ورچوئل دنیائیں اور ڈیجیٹل ٹوئنز بنانا ہے۔

نویڈا گرافک

،تصویر کا ذریعہNvidia

،تصویر کا کیپشنارتھ ٹو گرافک تصویر کا مقصد کلائمیٹ چینج پر نظر رکھنا اور اسے روکنے کے طریقے ڈھونڈنا ہے

اس کا ایک بہت بڑا منصوبہ زمین کا ہمزاد تیار کرنے سے متعلق ہے جس کے تحت زمین کی تمام سطح کی اعلیٰ معیار کی تصاویر کو یکجا کرنا ہے۔

اس منصوبے کا نام ارتھ ٹو ہے جو ڈیپ لرننگ اور نیورل نیٹ ورکس (کمپیوٹر) کی مدد سے زمین کے ماحول کے ڈیجیٹل نمونے تیار کرے گا اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد دے گا۔

اس برس مارچ میں یورپی کمیشن نے یورپی خلائی ادارے سمیت دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر زمین کا ایک ڈیجیٹل توام بنانے کا اعلان کیا، اس جڑواں زمین کا نام ڈیسٹینیشن ارتھ رکھا گیا ہے۔

اسے توقع ہے کہ سنہ 2024 کے آخر تک وہ مشاہدے اور تجربے سے اتنی معلومات جمع کر لے گا جس کی بنیاد پر زمین کا ڈیجیٹل ٹوین تیار ہو جائے گا۔

اس جڑواں کی مدد سے سیلابوں، خشک سالی، گرمی کی لہروں، زلزلوں، آتش فشاں پھٹنے اور دیگر قدرتی آفتوں پر نظر رکھی جائے گا اور متعلقہ ملکوں کو انسانی جانیں بچانے کے لیے ٹھوس منصوبہ سازی میں مدد دی جائے گی۔