چین اور روس کی امریکہ و دیگر مغربی ممالک سے مستقبل میں ممکنہ جنگ کیسی ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGiancarlo Casem/US Air Force
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, بی بی سی دفاعی نامہ نگار
برطانیہ کی دفاعی اور سکیورٹی پالیسی میں سنہ 2021 کے دوران بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کے لیے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب روایتی ساز و سامان اور فوجیوں کے لیے مختص بجٹ میں کمی ہوئی ہے۔
دنیا میں اب بھی چھوٹے، علاقائی تنازعات اب بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایتھیوپیا میں خانہ جنگی چل رہی ہے اور یوکرین کے تنازع میں سنہ 2014 سے اب تک 14 ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ شام میں دراندازی اب تک جاری ہے اور شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ افریقہ کے کچھ حصوں میں اب تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب روسی فوجیں یوکرین کی سرحدوں پر اکٹھی ہو رہی ہیں اور روس نے نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے کچھ رکن ممالک کو نیٹو سے نکال دے، جبکہ چین بھی تائیوان کے دوبارہ حصول کے لیے زور و شور سے بیانات دے رہا ہے، چاہے اس کے لیے طاقت ہی کیوں نہ استعمال کرنی پڑے۔
مگر عالمی طاقتوں کی جنگوں کا مستقبل کیسا ہو گا اور کیا مغربی ممالک آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟
’مستقبل کی جنگوں‘ کا دور اب آ ہی چکا ہے۔ مغرب اور روس و چین کے درمیان بڑے تنازعات کی کئی جہتیں اب تک تیار اور کامیابی سے آزمائی جا چکی ہیں۔
روس نے 16 نومبر کو خلا میں ایک میزائل کی آزمائش کرتے ہوئے اپنی ہی ایک سیٹلائٹ کو تباہ کر دیا۔ موسم گرما میں چین نے اپنے جدید ہائپرسونک میزائلوں کی آزمائش کی جو آواز کی رفتار سے کئی گنا تیز سفر کر سکتے ہیں۔
اشتعال انگیز سائبر حملے روز مرّہ کا معمول بن چکے ہیں چاہے یہ نقصان پہنچانے کے لیے کیے جائیں یا ڈیٹا چرانے کے لیے۔

مشیل فلورنی صدر کلنٹن اور اوبامہ کے دورِ صدارت میں پینٹاگون میں امریکی حکمتِ عملی کی پالیسی چیف رہ چکی ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں مغرب کی مشرقِ وسطیٰ پر توجہ نے اس کے مخالفوں کو اپنی فوجی صلاحیت میں اضافے کا موقع فراہم کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'درحقیقت ہم اس سٹریٹجک نکتے پر ہیں جہاں ہم (امریکہ، برطانیہ اور ہمارے اتحادی) انسدادِ دہشتگردی اور انسدادِ دراندازی پر 20 سال طویل توجہ کے دور، عراق اور افغانستان میں جنگوں سے باہر آ رہے ہیں اور نظر اٹھاتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نہایت سخت مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں۔'
وہ روس اور چین کا تذکرہ کر رہی تھیں جنھیں برطانیہ کے ایک سکیورٹی جائزے میں مغرب کے لیے بالترتیب 'شدید خطرہ' اور طویل مدتی 'سٹریٹجک مخالف' قرار دیا گیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ 'جب ہم مشرقِ وسطیٰ کی طرف متوجہ تھے تو ان ملکوں نے مغربی اندازِ جنگ پر بھرپور کام کیا اور اُنھوں نے کئی نئی ٹیکنالوجیز میں بھاری سرمایہ کاری شروع کر دی۔'

،تصویر کا ذریعہJ.M. Eddins Jr/US Air Force
اور اس سرمایہ کاری کی سب سے زیادہ توجہ سائبر سرگرمیوں پر رہی ہے جن میں مغربی معاشرے کی بنیاد کمزور کرنے کے مقصد سے کیے گئے حملے، انتخابات پر اثرانداز ہونا اور حساس ڈیٹا چرانا شامل ہے۔ یہ سب کچھ 'جنگ کی سطح' سے کہیں نیچے ہے اور اس میں سے زیادہ تر چیزوں کی تردید کی جا سکتی ہے۔
مگر اگر مغرب اور روس کے درمیان یوکرین کے معاملے پر، یا تائیوان کے معاملے میں امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ تناؤ باقاعدہ دشمنی میں تبدیل ہو گیا تو منظرنامہ کیا ہو گا؟
انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کا مقصد چین کی جانب سے فوجی برتری کے لیے ڈیٹا کا استعمال ہے۔
اس انسٹیٹیوٹ سے منسلک سینیئر ریسرچ فیلو میا نووینز کہتی ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک نہایت تیز ماحول میں ہو گا جو انفارمیشن کے شعبے پر انتہائی منحصر ہو گا۔'
وہ کہتی ہیں کہ 'چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے سٹریٹجک سپورٹ فورس نامی ایک نیا ادارہ بنایا ہے جو خلا، الیکٹرانک جنگوں اور سائبر صلاحیتوں پر کام کر رہا ہے۔'
اس سب کا عملی طور پر کیا مطلب ہے؟ کسی بھی تنازع کی ابتدا دونوں اطراف سے بڑے سائبر حملوں سے ہو گی۔ مخالف کی مواصلات بشمول سیٹلائٹس کو نقصان پہنچا کر اور یہاں تک کہ زیرِ سمندر کیبلز کاٹ کر اُنھیں ’اندھا‘ کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔
میں نے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز میں مستقبل کی جنگوں کے ماہر فرانز سٹیفان گیڈی سے پوچھا کہ اس کا آپ کے لیے اور میرے لیے کیا مطلب ہو گا؟ کیا ہمارے فونز اچانک کام کرنا بند کر سکتے ہیں، پیٹرول سٹیشنز خشک ہو سکتے ہیں اور سودا سلف کی دکانوں پر افراتفری مچ سکتی ہے؟
وہ کہتے ہیں کہ 'اس کا امکان بالکل موجود ہے کیونکہ عالمی طاقتیں نہ صرف جارحانہ سائبر حملوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں بلکہ الیکٹرانک جنگوں کی صلاحیت میں بھی جو سیٹلائٹس کو جام کر کے مواصلاتی نظام منہدم کر سکتے ہیں۔ چنانچہ مستقبل کے تنازعات میں صرف فوجی نہیں مجموعی طور پر معاشرے بھی مرکزی ہدف ہوں گے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سب سے بڑا فوجی خطرہ منصوبہ بندی کے بغیر تنازع وسیع کرنا ہے۔ اگر آپ کی سیٹلائٹس کام نہیں کر رہیں اور زیرِ زمین کمانڈ بنکرز میں بیٹھے آپ کے منصوبہ سازوں کو نہیں پتا کہ کیا ہو رہا ہے تو اگلی چال چلنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔
میا نووینز کے مطابق اس سے اُن کے سامنے 'کم ترین' یا 'شدید ترین' ردِ عمل دینے میں سے کسی ایک کا انتخاب رہ جائے گا جس میں تنازع کو مزید ہوا دینے کا خطرہ بنیادی طور پر موجود ہے۔
مستقبل کی جنگ میں ایک بڑا کردار ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا ہو گا۔ یہ کمانڈرز کے فیصلہ لینے اور ردِ عمل دینے میں لگنے والا وقت گھٹا دے گی جس سے وہ معلومات کو پہلے سے جلد سمجھ سکیں گے۔
یہاں امریکہ کے پاس اپنے ممکنہ مخالفین پر معیار کی برتری حاصل ہے۔
مشیل فلورنی کا ماننا ہے کہ یہ اُن جگہوں پر کمی پوری کر سکتی ہے جہاں مغرب چین کی پیپلز لبریشن آرمی پر عددی برتری نہیں رکھتا۔
وہ کہتی ہیں کہ 'عددی برتری واپس حاصل کرنے اور مخالفین کی جانب سے دفاعی یا جارحانہ منصوبہ بندی مشکل بنانے کا ایک طریقہ ہے کہ انسانوں اور مشینوں کے جوڑے بنا دیے جائیں۔
مگر ایک شعبے ایسا ہے جس میں مغرب چین اور روس سے کہیں زیادہ پیچھے ہے۔
یہ ہائپرسونک میزائل ہیں جو آواز کی رفتار سے پانچ سے 27 گنا تیز سفر کر سکتے ہیں اور ان میں روایتی اور جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
روس نے اپنے ہائپرسونک کروز میزائل ’زیرکون‘ کی کامیاب آزمائش کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں کہیں بھی کسی بھی دفاعی نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین نے ڈونگ فینگ سنہ 2019 میں پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیے تھے جن میں ایک ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل نصب ہوتی ہے۔ یہ کرّہ ہوائی میں سے ناقابلِ پیشگوئی راستہ اختیار کر سکتی ہے جس سے اس کا پتا لگانا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں امریکہ کے حالیہ ٹیسٹ اتنے اچھے نہیں رہے ہیں۔ چین کے اسلحے میں ان نئے ہتھیاروں کی شمولیت واشنگٹن کو دوبارہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تو کیا امریکہ اس جنگ کا حصہ بنے گا؟

،تصویر کا ذریعہGiancarlo Casem/US Air Force
مگر ابھی جب سنہ 2022 شروع ہونے والا ہے تو یوکرین کی سرحدوں پر جمع ہونے والی روسی فوجیں اب تک روایتی ہتھیاروں سے لیس ہیں جن میں روایتی ہارڈویئر، ٹینکس، بکتربند گاڑیاں اور فوجی شامل ہیں۔ یہ سب ساز و سامان وہی ہے جو روس نے اگر خطہِ بلقان پر دوبارہ قبضے کا فیصلہ کیا تو وہ استعمال کرے گا۔
برطانیہ نے نئی ٹیکنالوجی کی خاطر اپنی روایتی فوجی فورسز کے بجٹ میں کمی کی ہے۔ فرانسز سٹیفان گائڈی کہتے ہیں کہ اس کے لازماً 20 سال کے عرصے میں فوائد حاصل ہوں گے مگر اس سے پہلے ایک تشویشناک خلا ہو گا۔
اور اگلے پانچ سے 10 برس میں آپ مغربی سلامتی کو سب سے خطرناک چیلنجز لاحق ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔
تو کیا صرف تباہی اور بربادی ہی مستقبل ہے؟ مشیل فلورنی کے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ اُنھیں لگتا ہے کہ حل دو چیزوں میں ہے، یعنی مشاورت اور اتحادیوں کے ساتھ تعاون، اور صحیح جگہوں پر سرمایہ کاری۔
وہ کہتی ہیں کہ 'اگر ہم اپنے ذہن ساتھ ملائیں اور درست ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ہیں، صحیح تصورات پر کام کریں، اور انھیں تیزی سے تیار کریں تو ہم عالمی طاقتوں کی اس جنگ کو روک سکتے ہیں۔'
مشیل کہتی ہیں کہ 'ہمیں اپنے مقاصد حاصل کرنے چاہییں اور انڈو پیسیفک خطے کو آزاد، کھلا اور مستقبل کے لیے خوش حال رکھنا چاہیے۔











