روس یوکرین تنازع: اگر ماسکو کی افواج یوکرین میں داخل ہوئیں تو اس کے نتائج ہوں گے، جی سیون کی تنبیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جی سیون ممالک نے روس کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ یوکرین میں داخل ہوا تو اس کے 'بڑے پیمانے پر نتائج' مرتب ہوسکتے ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ لز ٹرس نے لیورپول میں ایک سمٹ کے بعد بتایا ہے کہ جی سیون ممالک کا گروہ چاہتا ہے کہ روس یوکرین کی طرف اپنی جارحیت روک دے۔
تاہم روسی صدر ولادیمیر پوتن نے گذشتہ ہفتے ایک ویڈیو کال کے ذریعے امریکی صدر جو بائیڈن کو بتایا تھا کہ روسی افواج کسی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔
یوکرین کی سرحد پر ماسکو کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد میں تعیناتی نے علاقے میں مزید تناؤ کو جنم دیا ہے۔
اتوار کو ٹرس نے صحافیوں کو بتایا کہ اگر روس یوکرین میں داخل ہوتا ہے تو اس کے بڑے پیمانے پر نتائج ہوں گے اور اس کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
یاد رہے کہ صدر بائیڈن نے روسی صدر سے کہا تھا کہ ایسی صورت میں روس کو معاشی تنائج کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
یوکرین کی سرحد روس اور یورپی یونین کے ساتھ لگتی ہے۔ ماضی میں سوویت یونین کا حصہ رہنے کی وجہ سے یہاں اس کے روس کے ساتھ سماجی اور ثقافتی تعلقات ہے۔ تاہم روس یوکرین پر اشتعال انگیزی کا الزام لگاتا ہے اور سنہ 2014 سے اس کے حمایت یافتہ جنگجو یوکرین کی فوج سے لڑ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'یہ احمقانہ سوچ ہو گی کہ جنگ ایک ملک تک محدود رہ سکے'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک مغربی ملک کے انٹیلیجنس ادارے کے سینیئر اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے کسی بھی شکل میں کوئی قدم اٹھایا تو اسے نیٹو ممالک کے خلاف بھی قدم تصور کیا جائے گا۔ 'اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو لڑائی یورپ میں دور تک پھیل سکتی ہے۔‘
'ہم اندھے نہیں ہیں۔ یہ احمقانہ سوچ ہو گی کہ ایسی جنگ کسی ایک ملک تک محدود رہ سکتی ہے۔'
بی بی سی سمیت دیگر صحافیوں سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے اس سینیئر اہلکار کا کہنا تھا کہ 'ہم اندھے نہیں ہیں۔ یہ احمقانہ سوچ ہو گی کہ ایسی جنگ کسی ایک ملک تک محدود رہ سکتی ہے۔'
واضح رہے کہ ایسے ہی خدشات کا اظہار برطانیہ کے سب سے سینیئر عسکری افسر کی جانب سے بھی کیے جا چکا ہے۔
منگل کو برطانیہ کے چیف آف ڈیفینس سٹاف ایڈمرل سر ٹونی ریڈکن نے رپورٹرز کو بتایا کہ 'ایک بھرپور حملے کے بدترین نتائج ایسی صورت میں نکل سکتے ہیں جو یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد نہیں دیکھی گئی۔'
انہوں نے یوکرین کی سرحد پر روسی افواج کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کو نہایت پریشان کن قرار دیا تھا۔
'روس یوکرین کی سرحد پر فوج جمع کر رہا ہے'
امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کی جانب سے یوکرین پر حملے کے نتیجے میں سنگین اقتصادی نتائج کی دھمکی کے باوجود روس کی جانب سے حالیہ دنوں میں عسکری تیاریوں کے شواہد مل رہے ہیں۔
مغربی ملک کے انٹیلیجنس اہلکار کے مطابق یہ تیاریاں ڈرامائی نہیں، بلکہ مستحکم ہیں۔ مغربی انٹیلیجنس حکام کے مطابق ٹینکوں اور توپوں سے مسلح روس کی ایک لاکھ فوج اس وقت یوکرین کی سرحدوں پر موجود ہے۔امریکی اندازوں کے مطابق یہ تعداد جنوری تک ایک 175000 تک پہنچ سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مغربی دفاعی اہلکار کے مطابق اگر روس اب بھی یوکرین پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرے تو اس کے پاس اس کی صلاحیت موجود ہے۔ لیکن ان کے مطابق اس وقت یوکرین کی سرحدوں پر موجود روسی افواج کے پاس ایمونیشن، ہسپتالوں جیسی اہم چیزوں کی کمی ہے۔
دوسری جانب امریکی اہلکاروں کی جانب سے روس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گمراہ کن معلومات میں اضافے کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔
دیگر مغربی دفاعی ذرائع نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ خفیہ طور پر حاصل معلومات کے مطابق روس حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے کیا ممکنہ نتائج ہوں گے؟
سینیئر مغربی سنٹیلیجنس اہلکار کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے کے نیتجے میں بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو جائیں گے۔
'یوکرین میں بڑے پیمانے پر تباہی اور اموات کے ساتھ ساتھ تارکین وطن کی تعداد بڑھے گی۔'
واضح رہے کہ 2014 میں مشرقی یوکرین میں جنگ کے نتیجے میں 14000 اموات ہوئی تھیں اور 14 لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔
اس سینیئر اہلکار کے مطابق روس نیٹو کے دیگر ممالک کے خلاف بھی اقدامات اٹھا سکتا ہے جن میں سائبر اور ہائبرڈ حملوں کے علاوہ براہ راست حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
'اگر یہ جنگ مذید پھیلی تو اس کے اثرات بھی پھیلیں گے۔'
روس کے صدر پوتن کیا چاہتے ہیں؟
مغربی دنیا اب تک اس سارے معاملے میں روس کے صدر پوتن کی اصل نیت نہیں جان سکی۔ لیکن سینیئر مغربی انٹیلیجنس اہلکار نے خبر دار کیا ہے کہ اگر روس اپنے مطالبات پر مطمئن نہیں ہوا تو عسکری آپشن کا استعمال کافی حد تک ممکن ہے۔
'کیا پوتن نے یوکرین پر حملے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ ہم حتمی طور پر ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔'
اس سوال کے جواب میں مغربی حکام ماسکو کی طرف سے جنگی بیانات میں اضافے، یوکرین اور نیٹو پر اشتعال دلانے کے الزامات کے ساتھ ساتھ ماضی میں کریمیا کے جبری الحاق کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔

'اس کے علاوہ روس کی جانب سے قفقاز سمیت دیگر علاقوں میں روس کی جانب سے علیحدگی پسندوں کی حمایت اور بیلاروس کے ساتھ سرحدی تنازعہ جس میں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے بھی شامل ہیں۔'
مغربی انٹیلیجنس اہلکار کے مطابق ان تمام واقعات کو ایک ہی کڑی کا حصہ سمجھنا مشکل ہے لیکن اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مشرقی یورپ میں ایک بڑا تنازعہ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سویت یونین کے بکھر جانے کے بعد سے یورپ میں پہلی بار ایسی صورت حال دیکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے
روس کے مطالبات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعے کا حل
امریکہ اور نیٹو نے واضح کیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ تنازعے کی بجائے مزاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔ اب تک ماسکو کی جانب سے بھی مزاکرات کے سلسلے کو جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی صدر جو بائیڈن اور روس کے صدر پوتن کے درمیان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سفارت کاری شروع ہوئی جس کے بعد نیٹو ممالک کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لیکن روس کے مطالبات اور 'ریڈ لائنز' سفارت کاری کو مشکل بنا رہے ہیں۔
روس یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ یوکرین کو کبھی بھی نیٹو کا حصہ نہ بنایا جائے اور نیٹو ممالک یوکرین میں مستقل فوجی اڈے قائم نہ کریں۔ روس کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ اس کی سرحدوں کے قریب فوجی مشقوں کو روک دیا جائے۔
دوسری جانب نیٹو کا اصرار ہے کہ یہ ایک دفاعی اتحاد ہے جو روس کے لیے خطرہ نہیں ہے۔
لیکن نیٹو کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یوکرین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے اپنے فیصلے خود کرے اور روس کو یوکرین کے مستقبل پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کا اختیار نہی دیا جائے گا۔










