ہم سفارت کاری کی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ہم دیگر زبانوں میں بھی مہارت رکھتے ہیں: عباس عراقچی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’ہماری سرزمین کے قریب موجود غیر ملکی افواج کو ہمیشہ اپنے انسانی غلطیوں، سادہ اور غیر ارادی حادثات، یا حتیٰ کہ کراس فائر کی زد میں آنے کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔‘
عراقچی کا کہنا ہے کہ ’ان خطرات کو کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ وہ ان علاقوں سے نکل جائیں۔‘
ایرانی وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم سفارت کاری کی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ہم دیگر زبانوں میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔‘
اس سے قبل ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی ایکس پر اسی نوعیت کا ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم سفارت کاری کی زبان کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ہم دیگر زبانیں کہیں زیادہ روانی سے بول سکتے ہیں۔‘
یہ پیغامات امریکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں امریکی فوج نے مطلع کیا ہے کہ ایران نے گذشتہ رات آبنائے ہرمز پر گشت کے دوران ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب امریکہ اس حملے کا جواب دینا پڑے گا۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپاچی ہیلی کاپٹر کے حادثے سے متعلق ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ہیلی کاپٹر عمان کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہوا اور امریکی افواج نے اس کے دونوں پائلٹس کو بچا لیا۔












