جنگلات کی بحالی: دنیا میں سنہ 2000 سے اب تک فرانس کے سائز کے برابر جنگلات بحال ہو چکے ہیں

جنگلات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈبلیو ڈبلیو ایف کی قیادت میں ماہرین کی ایک ٹیم نے سیٹیلائٹ ڈیٹا کی مدد سے بحال ہو جانے والے جنگلات کا نقشہ بنایا ہے۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں گذشتہ 20 سال کے دوران ایک بڑے رقبے پر جنگلات فطری طور پر دوبارہ اگ آئے ہیں اور ان جنگلات کا رقبہ فرانس کے برابر ہے۔

دوبارہ پیدا ہو جانے والے یہ جنگلات پانچ عشاریہ نو گیگا ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کر سکتے ہیں۔ ماحول کے تحفظ پر کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ نئے جنگلات کاربن ڈائی آکسائڈ کی جتنی مقدار کو جذب کر سکتے ہیں وہ امریکہ کے سالانہ اخراج سے زیادہ ہے۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی قیادت میں ماہرین کی ایک ٹیم نے سیٹیلائٹ ڈیٹا کی مدد سے بحال ہو جانے والے جنگلات کا ایک نقشہ بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جنگلات کے دوبارہ اگ جانے کے عمل میں بہت معمولی سی انسانی کوشش یا مکمل فطری طور پر درختوں سے بھرے قدرتی علاقے بحال کرنا شامل ہے۔

جنگلات کی بحالی کے اس طریقۂ کار کے تحت ان علاقوں کو مکمل طور پر فطرت کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں نئے مقامی درخت لگائے جاتے ہیں نہ مویشیوں کو جانے سے روکنے کی باڑیں لگائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے پودوں کو بھی وہاں سے اکھاڑا نہیں جاتا جو مقامی درختوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یعنی ان علاقوں کو مکمل طور پر فطرت کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف سے منسلک ولیم بالڈون کا کہنا ہے کہ 'شجرکاری کے مقابلے میں جنگلات کی بحالی کا یہ فطری طریقہ سستا ہے، کاربن اور حیاتیاتی تنوع کے لیے بہتر ہے۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ جنگلات کی اس فطری طریقے سے بحالی سے ضرورت سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔ 'آب و ہوا میں خطرناک تبدیلی سے بچنے کے لیے ہمیں جنگلات کی کٹائی روکنا ہو گی اور قدرتی جنگلات کو بحال کرنا ہو گا۔'

ولیم بالڈون کا کہنا تھا کہ ہر سال لاکھوں ہیکٹر رقبے پر جنگلات ختم ہو رہے ہیں جو ان کی بحالی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

جنگلات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار کم کرنے کے لیے درخت لگانا آسان اور سادہ کاموں میں سے ایک ہے

'آب و ہوا میں تبدیلی کے مسئلے کو حل کرنے میں جنگلات کی اہمیت اور کردار کو اجاگر کرنے کے لیے ہمیں آب و ہوا کی بہتری کے منصوبوں سے مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر صورت میں ان وجوہات کا مقابلہ کرنا ہو گا جو جنگلات کے خاتمے کا سبب بنتی ہیں۔ برطانیہ میں اس کا مطلب ہے ایسے سخت مقامی قوانین جو ہماری ایسی غذاؤں کو روکیں جو بیرونِ ملک جنگلات کی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔'

اس نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ برازیل کے اٹلانٹک جنگل نے امید کی ایک کرن پیدا کی ہے۔ اس جنگل کا رقبہ نیدرلینڈز کے برابر ہے اور یہ سنہ 2000 کے بعد سے دوبارہ پھل پھول رہا ہے۔

اس کے علاوہ شمالی منگولیا کے بوریئل جنگلات بھی گذشتہ 20 سال کے دوران بحال ہوئے ہیں۔ یہ جنگلات 12 لاکھ ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ وسطی افریقہ اور کینیڈا کے بوریئل جنگلات بھی فطری طریقے سے بحال ہوئے ہیں۔

تاہم تحقیق کاروں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جنگلات کو 'بڑے خطرات' کا سامنا ہے۔

برازیل سمیت دنیا کے کئی علاقوں میں جنگلات کی بحالی کی حوصلہ افزا حقیقت کے باوجود جنگلات کی تباہی اس قدر زیادہ ہوئی ہے کہ اب تک بحال ہونے والے علاقوں سے دگنے رقبے پر جنگلات کی بحالی ضروری ہے تا کہ دنیا کو جنگلات کی بنیادی ضرورت تک پہنچا جا سکے۔

جنگلات کو فطری طور پر بحال کرنے کا یہ ایک مشترکہ منصوبہ ہے جس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف، برڈ لائف انٹرنیشنل اور ڈبلیو سی ایس شامل ہیں۔ یہ ادارے دوسرے ماہرین کو بھی دعوت دے رہیں ہیں کہ وہ ان کے بنائے ہو نقشے کو بہتر کرنے میں ان کی مدد کریں۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے بنائے گئے اپنے نقشے کے بارے میں ان اداروں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق کی ایک ابتدائی کوشش ہے۔

فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار کم کرنے کے لیے درخت لگانا آسان اور سادہ کاموں میں سے ایک ہے۔ لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائڈ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صحیح جگہ پر صحیح درخت لگائے جائیں۔