سنہ 2020 کے اختتام تک انسانوں کی جانب سے بنائی گئی اشیا کا وزن زمین پر موجود جانداروں کے وزن سے بڑھ جائے گا

زمیبن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ہیلن برگز
    • عہدہ, نامہ نگار برائے ماحولیات

سائنس دانوں کا کہنا ہے رواں برس کے اختتام تک روئے زمین پر موجود انسانوں کی بنائی ہوئی چیزوں کا وزن زمین پر پائے جانے والے جانداروں کے وزن سے ممکنہ طور پر بڑھ جائے گا۔

سادہ الفاظ میں ہم نے دنیا میں جو پلاسٹک، اینٹیں، کنکریٹ اور دیگر اشیا بنائی ہیں ان کا مجموعی وزن ہمارے سیارے پر موجود تمام جانوروں اور پودوں کے وزن سے زیادہ ہو جائے گا۔ اور ایسا پہلی مرتبہ ہونے جا رہا ہے۔

اندازاً انسانوں کی بنائی ہوئی اشیا کا موجودہ وزن تقریباً ایک ٹیرا ٹن ہے۔

دنیا میں ہر انسان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے وزن سے زیادہ ویٹ رکھنے والی اشیا ہر ہفتے بنائی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یہ حیرت انگیز اعداد و شمار اسرائیل کے ویزمان انسٹیٹیوٹ آف سائنسز کی ایک ٹیم نے اکھٹے کیے ہیں تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ ہم انسان کیسے زمین کو بدل رہے ہیں۔

بی بی سی نیوز سے گفتگو میں ڈاکٹر ران مِلو، جو کہ اس تحقیق کی سربراہی کر رہے ہیں، نے بتایا کہ ’اس کی اہمیت علامتی ہے۔ یہ حقائق ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ جو کچھ اس دنیا اور ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے اس کو بنانے میں انسانیت کیا مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ہم سب اپنے کردار پر غور کریں کہ ہم کس قدر اس دنیا کو استعمال کرتے ہیں اور اس کے ذریعے ہم دنیا اور انسانیت کے درمیان بہتر توازن پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

سائنس دانوں نے سنہ 1900 سے لے کر اب تک انسان کے بنائے ہوئے مجموعی مواد کا موازنہ اس سیارے پر موجود تمام جاندار اشیا (جنھیں بائیو ماس کہتے ہیں) کے وزن سے کیا ہے۔

زمین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پلاسٹک کی بوتلوں سے لے کر اینٹوں اور کنکریٹ تک، جنھیں ہم شاہراؤں کو بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، ان تمام چیزوں کو جنھیں ہم انسانوں نے بنایا ہے ہر 20 برسوں میں اُن کا وزن دگنا ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ہی جانداروں کا وزن کم ہو رہا ہے خاص طور پر قدرتی جگہوں پر درختوں اور جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے۔

سائنس دانوں کو معلوم تھا کہ کسی ایک نقطے پر ہم اس کی حد کو پہنچ جائیں گے اور ان کے اندازے کے مطابق سنہ 2020 وہ سال ہے جب انسان کی بنائی ہوئی اشیا جیسے سڑکیں، عمارتیں اور مشینیوں کا وزن دنیا کی تمام جاندار چیزوں سے بڑھ جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کا ٹھیک وقت بتایا جانا مشکل ہے کیونکہ شاید کسی بھی جانب سے لگائے جانے والے تخمینوں میں کچھ تبدیلی ہو۔

لیکن اگر ہم نے اسے سنہ 2040 تک اسی طرح سے جاری رکھتے ہیں تو انسان کی بنائی چیزوں کا وزن 1.1 ٹیرا ٹن یعنی 1100000000000 ٹن سے تین گنا بڑھ جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی جانب ہر سال بنائے جانے والے مواد کا سالانہ وزن 30 گیگا ٹن یعنی 30000000000ٹن سے بھی زیادہ ہے۔

یہ تحقیق نیچر میگزین میں شائع ہوئی ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے ہم ایک نئے ارضیاتی دور میں داخل ہو چکے ہیں جسے ’اینتھرو پوسین‘ کہتے ہیں۔ جہاں انسانیت اگلے لاکھوں سالوں میں زمین پر انسانیت کے اثرات چٹانوں اور پتھروں میں دکھائی دیں گے۔

اس کے آغاز کی باقاعدہ تاریخ سنہ 1950 کا عرصہ ہو سکتی ہے جو ’گریٹ ایکسریشن‘ کا آغاز بھی تھا جب انسانی آبادی اور اس کی جانب سے اشیا کے استعمال کے انداز میں اچانک بہت تیزی آئی تھی۔

ایلومینیم، کنکریٹ اور پلاسٹ کی طرح ہر جگہ استعمال کیے جانے والے مواد کے پھیلاؤ کے ساتھ موافقت رکھتا ہے۔