شہابیوں کی برسات اور سیاروں کا ملاپ، یہ دسمبر اتنا خاص کیوں ہے؟

ملکی وے، کہکشاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہماری اپنی کہکشاں ملکی وے کی برطانیہ کے علاقے ڈورسیٹ سے لی گئی تصویر
    • مصنف, ایوا اونٹیورس
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

سال 2020 بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آیا مگر ستارہ بینی کے تناظر میں شاید یہ سال کچھ لوگوں کو راضی کر لے۔ اس سال دسمبر میں آپ آسمان پر انتہائی شاندار مناظر بغیر کسی دوربین یا مہنگے آلات کے دیکھ سکیں گے۔

دو سیارے ایک دوسرے سے ملیں گے، شہابیوں کی ایک شاندار برسات یعنی میٹیئر شاور ہوگا اور ایک مکمل سورج گرہن۔ آپ کو بس صاف آسمان، آنکھوں کے لیے حفاظتی سامان اور تھوڑی سی ہدایات کہ کب اور کدھر دیکھنا ہے، ہی درکار ہوں گی۔

اس سال کے سب سے شاندار مناظر کون سے ہوں گے؟

جیمینیڈ میٹیئر شاور، 13 اور 14 دسمبر کو دنیا بھر سے نظر آئے گا

آپ نے شاید گذشتہ چند ماہ میں شہابیوں کی دیگر برساتیں دیکھی ہوں مگر ’کنگ آف میٹیئر شاورز‘ کے لیے تیار ہو جائیں۔

جیمینیڈز، شہاب ثاقب، شہابیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجیمینیڈز میٹیئر شاور کا بحیرہِ جاپان کے جزیرہ رسکی سے محفوظ کیا گیا ایک منظر جو دسمبر 2017 میں دیکھا گیا

برطانیہ میں رائل آبزرویٹری گرینچ سے منسلک پٹریشیا سکلیٹن کہتی ہیں کہ ’زیادہ تر شہابیوں کی بارش تب نظر آتی ہیں جب زمین کومیٹس یعنی دم دار تاروں کے ملبے والے علاقے سے گزرتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’مگر جیمینیڈز شاور مختلف ہے۔ یہ ایک ایسے مخصوص سیارچے فیٹون 3200 کے ذرات کی وجہ سے نظر آئے گا۔‘

’ہر سال جب زمین خلا میں موجود ان ذرات کے درمیان سے گزرتی ہے تو ہمیں یہ شاور نظر آتے ہیں۔ اس سال 13 اور 14 دسمبر کو یہ اپنے عروج پر ہوں گے جب ہمیں ایسے 150 ’ٹوٹے تارے‘ فی گھنٹہ تک نظر آ سکتے ہیں۔‘

جیمینیڈز، شہاب ثاقب، شہابیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی ریاست ایریزونا میں سال 2017 میں جیمینیڈز میٹیئر شاور کا ایک منظر

پٹریشیا بتاتی ہیں کہ ’جب یہ زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں تو یہ 35 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چل رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک لاکھ 30 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’آپ آسمان پر پیلی، کبھی سبز یا نیلی لکیروں کی توقع رکھ سکتے ہیں۔‘

آپ کا آسمان جتنا سیاہ ہو اتنا زیادہ امکان ہے کہ آپ کو یہ سب نظر آئے مگر آپ روشنی سے آلودہ کچھ شہروں میں بھی یہ دیکھ سکیں گے۔

اور اس بار اچھی خبر یہ ہے کہ گذشتہ برس تو یہ موقع ستارہ بینوں کے دشمن یعنی مکمل چاند والی رات میں آیا تھا، مگر رواں سال یہ ایک نئے چاند والی راتوں میں ہوگا اس لیے آسمان زیادہ سیاہ ہو گا۔

مکمل سورج گرہن، 14 دسمبر کو چِلی اور ارجنٹینا میں نظر آئے گا

پیٹاگونیا، چلی، ارجنٹینا، ارجنٹائن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپیٹاگونیا کا خِطہ۔ ایل کیلافات سے ایل چالتین تک کا یہ راستہ دنیا کی خوبصورت ترین سڑکوں میں سے تصور کیا جاتا ہے

نا امید نہ ہوں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے یہ ساری دنیا میں دیکھا جا سکے گا۔

کورونا وائرس کی وبا سے قبل شاید بہت سے لوگ جنوبی چِلی یا ارجنٹینا جا کر یہ دیکھنا چاہتے۔

مگر آخر یہ 2020 ہے اور ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یہ سب آن لائن کرنا پڑے گا۔

اور اگر آپ ان چند خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جو اس موقعے پر وہاں ہوں گے تو یاد رکھیے کہ سورج کو براہِ راست نہیں دیکھنا۔ اپنی آنکھوں کے لیے کوئی حفاظتی انتظام کر لیجیے گا۔

ان 24 جادوئی منٹوں کے لیے نیا چاند سورج کے سامنے سے گزرے گا اور اسے مکمل طور پر صرف 2 منٹ اور 9.6 سیکنڈز کے لیے بلاک کرے گا۔

رائل آبزرویٹری گرینچ سے تانیا مارکز کا کہنا ہے کہ چاند سورج کے مقابلے میں 400 گنا چھوٹا ہے مگر وہ اتنا بڑا اس لیے لگتا ہے کیونکہ وہ ہم سے کافی زیادہ قریب ہے اس لیے وہ چند لمحوں کے لیے سورج کو مکمل طور پر گرہن کر سکتا ہے۔

سورج کے سامنے سے چاند کا گزرنا جنوبی امریکہ کے آخری حصے میں دن کے درمیان ایک عجیب سی تاریکی پھیلا دے گا۔

سورج گرہن،

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک سورج گرہن کا منظر۔ مکمل سورج گرہن 18 ماہ میں ایک مرتبہ ہوتا ہے تاہم جزوی سورج گرہن سال میں کئی مرتبہ ہو سکتے ہیں

اس سب کو خاص طور پر توجہ سے دیکھ رہے ہوں گے ارجنٹینا اور چلی کے مشترکہ خطے پیٹاگونیا کے مقامی قبیلے ماپوش کے لوگ۔

اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ماسلو ہیوکیونام کا کہنا ہے کہ ’سورج مردانہ طاقت کی علامت ہے جبکہ چاند نسواں طاقت کی۔ ان کے راستوں کا ٹکراؤ ہمارے لیے انتہائی نازک لمحات ہوتے ہیں۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ماپوش قبیلے کے لوگ عموماً سورج گرہنوں کے بارے میں کافی خوف سے سوچتے ہیں اور ان کی زبان میں ایک طرح انھیں سورج کی موت بھی کہا جاتا ہے۔

تانیا بتاتی ہیں کہ سورج گرہن تقریباً 5000 سالوں سے تاریخ میں ہمیشہ ریکارڈ کیے گئے ہیں اور ایسا دنیا بھر میں ہوا ہے۔‘

ایک اور ماہرِ فلکیات کا کہنا ہے کہ ’یہ سمجھنا آسان ہے کہ سورج گرہن کو تاریخی طور پر برا شگن کیوں سمجھا جاتا ہے کیونکہ چند لمحوں کے لیے لگتا ہے کہ سورج چلا گیا ہے اور رات ہوگئی ہے۔‘

تانیا بتاتی ہیں کہ ایک سال میں پانچ سورج گرہن تک ہو سکتے ہیں۔ مگر مکمل سورج گرہن 18 ماہ میں صرف ایک مرتبہ ہوتا ہے جب چاند اس پوزیشن میں ہو کہ مکمل طور پر سورج کو بلاک کر سکے۔

تو اگر آپ آئندہ مکمل سورج گرہن دیکھنا چاہتے ہیں تو انٹارکٹیکا میں دسمبر 2021، انڈونیشیا اور آسٹریلیا میں اپریل 2023، امریکہ اور کینیڈا میں اپریل 2024، جنوبی یورپ اور گرین لینڈ میں اگست 2026 اور شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اگست 2027 میں دیکھ سکتے ہیں۔

مشتری اور زحل کا ملاپ، 21 دسمبر کو ساری دنیا سے نظر آئے گا

زحل، مشتری، مریخ، کینیڈا، البرٹا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبائیں سے دائیں جانب، سیارہ زحل، مِریخ اور مشتری کی کینیڈا کے صوبے البرٹا سے 26 مارچ 2020 کو علی الصبح لی گئی تصویر

ماہرِ فلکیات ایڈ بلومر کہتے ہیں کہ ’مشتری اور زحل وہ بہترین سیارے ہیں جنھیں آسمان پر دیکھا جائے کیونکہ یہ انتہائی روشن ہوتے ہیں۔‘

ان دونوں سیاروں کے راستے ایسے ملنے ہیں جس سے دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہوگا کہ وہ ایک ہو گئے ہیں اور ایک ساتھ چمک رہے ہیں۔

’آپ کو 21 دسمبر کی رات کو یہی نظر آئے گا۔ وہ آسمان میں اتنے قریب نظر آئیں گے کہ ہمیں لگے گا کہ وہ ایک ہوگئے ہیں۔‘

ہمیں لگے گا کہ یہ سیارے 0.1 ڈگری دور ہیں مگر یہ سب نظر کا کمال ہے۔ زمین اور مشتری کے درمیان تقریباً 80 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اس وقت کئی ماہ سے ایسے لگ رہا ہے کہ یہ سیارے ایک دوسرے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور آخر کار ان کا ملاپ ہو جائے گا۔

ایسا ہر 19.6 سالوں بعد ہوتا ہے مگر اس مرتبہ کی خاصیت یہ ہے کہ اتنے قریب یہ سیارے آخری مرتبہ 17ویں صدی میں 397 سال پہلے آئے تھے۔