جنگلات میں آگ کیسے لگتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
کینیڈا کے صوبے البرٹا کے جنگلات میں لگنے والی آگ کا متصل صوبے ساسکچیوان تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔گرم اور خشک ہواؤں کی وجہ سے حکام اب تک آگ پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں اور 80 ہزار افراد اس آگ کے باعث نکل مکانی کر نے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
جنگلات میں آگ کیسے لگتی ہے؟
آگ کے لیے تین چیزوں کا ہونا لازمی ہے، ایندھن، آکسیجن اور تپش۔
فائر فائٹرز جب آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو وہ اکثر ’فائر ٹرائنگل‘ کا ذکر کرتے ہیں۔
جس کا مطلب ہے کہ اگر ہم آگ کے لیے ضروری تین چیزوں میں سے ایک کو ہٹا لیں تو آگ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
گرمیوں میں جب درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے اور خشک سالی جیسے حالات ہوتے ہیں تو ایک چھوٹی سی چنگاری سے آگ لگ سکتی ہے۔
کبھی کبھار آگ قدرتی طور پر سورج کی تپش یا پھر آسمانی بجلی کے گرنے سے لگ جاتی ہے۔
تاہم جنگلات میں آگ لگنے کی سب سے بڑی وجہ انسانوں کی جانب سے برتنے والی بے احتیاطی ہے۔ بعض اوقات جان بھوج کر بھی آگ لگائی جاتی ہے۔
آگ اتنی تیزی سے کیسے پھیلتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہAP
جب جنگل میں ایک بار آگ شروع ہو جائے تو وہ ہوا، اترائی، چڑھائی اور خشک درختوں کی شکل میں موجود ایندھن، آگ کے تیزی سے پھیلنے کا سببب بنتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن جہاں یہ تینوں چیزیں ہوں تو آگ پر قابو پانا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے بہت بڑے علاقے پر پھیل جاتی ہے۔
جنگلات کی دیکھ بھال کرنے والے ادارے ’فارسٹری کمیشن‘ سے وابستہ راب گزارڈ کے بقول ’اترائی یا چڑھائی والی جگہ پر آگ کے پھیلنے کی رفتار تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔‘
کیا موسم کا کوئی کردار ہوتا ہے؟
جی ہاں موسم اس میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جب خشک سالی ہو اور موسم بھی بہت گرم ہو تو یہ حالات آگ لگنے کے لیے بہت ساز گار ہوتے ہیں۔
آپ کو ’فائر ٹرآئنگل‘ والی بات یاد ہے نا؟ خشک درخت، گھاس اور دیگر پودے وغیرہ آگ کے لیے ایندھن بن جاتے ہیں۔ جب زیادہ گرمی پڑتی ہے تو آگ کے پھیلنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ آگ کی شدت میں دوپہر کے وقت تیزی دیکھنے میں آتی ہے۔
سازگار حالات بنانے کی صلاحیت

،تصویر کا ذریعہAFP
راب گزارڈ کاکہنا ہے کہ ’آگ کے لیے ایندھن اور آکسیجن لازمی ہیں۔جب آگ پھیلتی ہے تو بعض اوقات وہ ایسی ماحولیاتی اور موسمی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے جو آگ کے پھیلنے کے لیے معاون ہوتی ہیں۔‘
ان کے بقول ’آگ سے پیدا ہونے والے دھویں کے بادلوں کے باعث آپ آگ کو صیح طریقے سے دیکھ نہیں سکتے جس کے باعث آگ پر قابو پانے میں مشکل پیش آتی ہے۔‘
آگ سے کیسے جیتا جاسکتا ہے؟
راب گزارڈ کہتے ہیں کہ ’آگ پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے اس کے راستے میں موجود ایندھن کو ہٹا دیا جائے۔آپ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آگ اگلے چند گھنٹوں یا دنوں میں کسی طرف کا رخ کرے گی اور پھر اس کے راستے میں موجود ایندھن کو وہاں سے ہٹا کر آگ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔‘
کن جگہوں پر آگ لگنے کا زیادہ خدشہ؟
راب کے بقول برطانیہ جیسے ملک جہاں بارش کثرت سے ہوتی ہے اور درجہ حرارت بھی زیادہ نہیں ہوتا وہاں کہ جنگلات میں آگ لگنے کا اندیشہ کافی کم ہوتا ہے۔
اس کے برعکس وہ ممالک جہاں گرمی زیادہ ہوتی ہے اور بارش بھی کم ہوتی ہے وہاں کے جنگلات میں آگ لگنے کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔







