البرٹا کے جنگلات میں لگنے والی آگ میں’ کمی‘

،تصویر کا ذریعہGetty
حکام کا کہنا ہے کہ کینیڈا کے صوبے البرٹا کے جنگلات میں لگنے والی شدید آگ اتنی تیزی سے نہیں پھیل رہی جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔
سینکڑوں فائر فائٹرز نے اہم مقامات پر آگ پر قابو پا لیا ہے۔ آگ کے شعلے تقریباً 621 مربع میل تک پھیلے ہوئے ہیں جبکہ سنیچر کو اندازا لگایا گیا تھا کہ 700 مربع میل تک کا علاقہ اس آگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
تاہم اب بھی آگ پر مکمل طور پر قابو پانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
آگ کے باعث فورٹ مک مرے سے اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد انخلا ہوا ہے۔ البرٹا کی وزیراعلیٰ ریچل نوٹلی کا کہنا ہے کہ ’حالات بہت مشکل ہیں۔‘
البرٹا سے چاڈ موریسن نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کے پاس کوئی ’خوشخبری‘ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’قدرت کی مدد، موسم میں ٹھراؤ اور فائر فائٹرز کی سخت محنت کے باعث ہم فورٹ مک مرے کے اہم مقامات پر آگ پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘
اس سے قبل حکام نے البرٹا کے جنگلات میں لگنے والی شدید آگ متصل صوبے ساسکچیوان تک پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
خیال کیا جا رہا ہے کہ آگ کا واقعہ کینیڈا کی تاریخ کی سب سے مہنگی قدرتی آفت ثابت ہو سکتی ہے اور اس آگ کے نتیجے میں صرف انشورنس کی مالیت سات ارب ڈالر کے قریب ہے۔
اتوار اور پیر کے روز بارش ہونے کا امکان ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل جاری رہنے والی بارشوں سے ہی حالات بہتر ہو سکتی ہے۔
شہریوں سے اپنے مکانات خالی کر دینے کے لیے کہا گيا ہے جبکہ بعض کو طیاروں کی مدد سے نکالا گيا ہے۔ جمعے کو 5500 افراد کو نکالا گیا جبکہ سنیچر کو مزید 4000 افراد کو نکالا جانا ہے۔
اب تک 300 سے زیادہ پروازوں کے ذریعے فورٹ میک مرے سے ہزاروں افراد کو صوبائی دارالحکومت ایڈمونٹن پہنچایا گيا ہے۔
پولیس کی نگرانی میں ڈیڑھ ہزار گاڑیوں کے قافلے کو شہر کے جنوبی حصے سے گزرنا تھا لیکن جمعے کی شام اسے شعلوں کے سبب ایک گھنٹے تک رکنا پڑا۔
اس شدید آگ کے نتیجے میں 1600 کے قریب مکانات اور عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں تاہم کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔
فورٹ مک مرے کینیڈا کے تیل پیدا کرنے والے علاقے میں ہے اور آگ کی وجہ سے ایک تہائي تیل کی پیداوار روک دی گئي ہے۔







