BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 February, 2009, 15:23 GMT 20:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باغی سپاہیوں کوعام معافی
بنگلہ دیش فوج
بغاوت ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں نے کی ہے

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے سرحدوں کی حفاظت کرنے کی ذمہ دار بنگلہ دیش رائفلز سے بغاوت کرنے والے سپاہیوں کو عام معافی دینے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے باغی افراد سے وعدہ بھی کیا ہے کہ ان کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔

باغیوں نے کہا ہے کہ وہ عام معافی کے بدلے اپنے ہتھیار ڈال دیں گے اور یرغمال بنائے گئے فوجی افسروں کو رہا کر دیں گے۔

یہ معاہدہ وزیر اعظم اور باغی افراد کے ایک وفد کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پایا۔ اس سے پہلے ڈھاکہ کے مرکز میں واقع بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکواٹر میں فوج اور ان جوانوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔

وزیرِ اعظم شیخ حسینہ سے مذاکرات کے لیےوفد کو خصوصی راہداری فراہم کی گئی تھی۔

اس سے پہلے یہ خبریں ملی تھیں کہ شہر کے مرکز میں واقع بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکواٹر میں فوج اور ان جوانوں کے درمیان شدید گولہ باری جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گولہ باری بدھ کی صبح شروع ہوئي ۔ بنگلہ دیش رائفلز کے ایک جوان نےمیگافون پر باغیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ فوج کے ساتھ کسی بھی ذریعے سے لڑائی کریں۔‘

ٹی وی چینلز پر بڑی تعداد میں جوانوں کو بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکواٹر کا گھیراؤ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈمّٹ جائے وقوع پر موجود ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہيں مل رہا ہے کہ حکومت کے تختہ پلٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایک دن قبل ہی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اس ہیڈکواٹر کا دورہ کیا تھا اور کچھ جوانوں کو میڈل دیے تھے۔

مقامی میڈیا جوانوں کی تنخواہوں اور کام کرنے کے ماحول سے بے اطمینانی اس بغاوت کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔

 بھائیوں ہمیں ایک ساتھ رہنا ہے ۔ فوج داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہے اور ہمیں اسے کسی بھی ذریعے سے انہيں روکنا ہے
باغی جوان، بنگلہ دیش رائفلز

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایک باغی جوان نے میگافون پر کہتے ہوئے سنا ’ بھائیوں ہمیں ایک ساتھ رہنا ہے ۔ فوج داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہے اور ہمیں اسے کسی بھی ذریعے سے انہيں روکنا ہے۔‘

شہر کے مڈیکل کالج اسپتال کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ ایک شہری ہلاک ہوا ہے جبکہ کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ زخمیوں میں سے کوئی فوج کا جوان ہے یا نہيں۔

اس قسم کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ ایک جوان نے اس ہیلی کاپٹر پر بھی گولی چلائی جو ہیڈکواٹر کے اووپر گشت کر رہا تھا۔

بعض اطلاعات کے مطابق ڈھاکہ ہیڈکواٹر کے انفرنس روم ميں دھنواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ مقامی میڈیا یہ بھی قیاس آرائی کر رہا ہے کہ باغیوں نے اعلی اہلکاروں کو کمرے میں بند کر دیا ہے۔

مقامی پولیس چیف نبوجیت کھائسا نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہیڈکواٹر میں شدید گولی باری ہو رہی ہے۔ ہم کو مارٹر داغے جانے کی آواز سنائی دی ہے۔‘

اس قسم کی بھی خبریں ہین فوجیوں نے ہیڈکواٹر کے باہر واقع ایک شاپنگ کامپلکس پر بھی حملہ کیا ہے اور اسے اپنے قبضے ميں لے لیا ہے۔

سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں
بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل
29 December, 2008 | آس پاس
بنگلہ دیش میں بھی تاج محل
10 December, 2008 | آس پاس
شیخ حسینہ کی ڈھاکہ واپسی
06 November, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد