’سری لنکا، جنگ سے بچے متاثر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والےاقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں فوج اور تامل باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں بہت سے بچے بھی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ یونیسیف نے سری لنکا کی حکومت اور تامل ٹائیگرز سے بچوں اور عام شہریوں کے تحفظ کا ترجیحی بنیادوں پر خیال رکھنے کی اپیل کی ہے۔ جنوبی ایشاء میں یونیسیف کے ڈائریکٹر ڈینیئل ٹول کا کہنا تھا کہ بچوں اور عام شہریوں کی سلامتی کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔’ہمارے پاس اس بات کے بڑے واضح ثبوت ہیں ہیں کہ لڑائی میں بچے پھنسے ہوئے ہیں اور وہ زخمی ہورہے ہیں اور ہلاک بھی کیے جارہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ سکول اور ہسپتال جیسی جگہوں کو محفوظ اور پر امن جگہ مانا جائے۔ ہمیں ان ہزاروں بچوں کے بارے میں گہری تشویش ہے جو زبردست لڑائی کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔‘ سری لنکا کے شمال میں تامل باغیوں اور فوج کے درمیان جہاں لڑائی جاری ہے وہاں اب بھی بہت سے شہری پھنسے ہوئے ہیں جن کے تحفظ کے متعلق کئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ تامل ٹائیگرز کا کہنا ہے کہ متنازعہ علاقے میں تقریبا ڈھائی لاکھ عام شہری اپنے تحفظ کے لیے ان کے قبضے والے علاقے سے باہر نہیں جانا چاہتے۔ جبکہ حکومت نے تامل ٹائیگرز سے اپیل کیا ہے کہ وہ عام شہریوں کو وہاں سے باہر نکلنے دیں۔ حکومت نے ان شہریوں کو باہر نکلنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے تک وقت بھی دیا تھا تاہم حکومت کا کہنا تھا کہ اس جنگ بندی ممکن نہیں ہے۔ اس کے جواب میں تامل ٹائیگرز کے ترجمان بی ندیشن نے کہا کہ ’ تامل اپنے قاتلوں کے ہاتھ میں نہیں پڑنا چاہتے۔ ان کا یقین ہے کہ علاقے میں امن ان کے پاس ہے جو اس کا نظام چلاتے ہیں اور وہی علاقہ ان کے تحفظ کا ضامن ہے۔‘ محکمہ صحت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ لڑائی میں اب تک سینکڑوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن وزیر دفاع گوتبایا راج پکشے کا کہنا ہے کہ امدادی ایجسنیاں ہلاک شدگان کی تعداد بتانے میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہی ہیں۔ صدر راج پکشے کا کہنا ہے کہ ایل ٹی ٹی ای عام شہرویں کو وہاں سے نکلنے نہیں دے رہی ہے۔’میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ عام شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کے لیے آئندہ اڑتالیس گھنٹوں تک وہ عام شہریوں کی آمد و رفت پر روک نا لگائیں۔ میں ان تمام شہریوں کو باہر آنے کے لیے محفوظ راستے کے حق میں ہوں تاکہ وہ محفوظ ماحول میں پہنچ سکیں۔‘ جمعہ کے روز یوروپی یونین نے لڑائی کو وقتی طور پر روکنے کے لیے کہا تھا۔یونین کے امدادی کمشنر لوئس مائیکل کا کہنا تھا ’انسانی تباہی میں زبردست اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہمیں ان لوگوں پر بہت پریشانی ہے جو لڑائی کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔‘ لیکن سری لنکا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ باغیوں کے قبضے والے ان علاقوں کو آزاد کرانے کی کارروائی روک نہیں سکتی جو ابھی تک آزاد نہیں کرائے جا سکے ہیں۔ تامل باغیوں اور سری لنکا کی فوج درمیان آج کل زبردست لڑائی جاری ہے۔ حالیہ فوجی آپریشن کے دوران سرکاری فورسز نے باغیوں کے زیر اثر بڑے علاقے پر قبضہ اور باغیوں کو زبردست نقصان پہنچانے کا دعوٰی کیا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومین رائٹس واچ نے عام شہریوں کی حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور باغیوں، دونوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ حکومت نے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تامل باغیوں کو اپنی صفیں پھر سے آراستہ کرنے کا موقع ملے گا۔ وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد باغیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے اور سرکاری فوجیں پسپائی اختیار کرتے باغیوں پر آخری ضرب لگانے کے قریب ہیں۔ | اسی بارے میں ’میرا قاتل جان لے کہ میں بزدل نہیں ہوں‘13 January, 2009 | آس پاس صحافی کا جنازہ، ہزاروں شریک12 January, 2009 | آس پاس تامل باغیوں نے جہاز ڈبو دیا10 May, 2008 | آس پاس سری لنکا لڑائی بھاری جانی نقصان24 April, 2008 | آس پاس سری لنکا:52باغی اور15 فوجی ہلاک23 April, 2008 | آس پاس سری لنکا میں دھماکہ بیس ہلاک02 February, 2008 | آس پاس سری لنکا جھڑپیں، ’درجنوں ہلاک‘28 January, 2008 | آس پاس سری لنکا: ’انسٹھ تامل باغی ہلاک‘ 12 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||