سری لنکا: ’انسٹھ تامل باغی ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ لڑائی میں اس نے انسٹھ تامل ٹائیگرز باغیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ فوج کے مطابق لڑائی میں اس کا ایک فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔ لیکن علیحدہ ریاست کے لیے فوج سے برسر پیکار تامل باغیوں نے حکومت کے اس دعوے کو غلط بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت جنوبی علاقے میں بسے سنہالی باشندوں کی حمایت کو بر قرار رکھنے کے لیے اس طرح کے جھوٹے دعوے کرتی ہے۔ تامل باغیوں اور سری لنکا کی فوج کے درمیان لڑائی اس وقت سے زور پکڑ تی جا رہی ہے جب سے حکومت نے جنگ بندی پر عمل نہ کرنے کے اشارے کیے تھے۔ حکومت سولہ جنوری سے باقاعدہ طور پر جنگی بندی معاہدے سے الگ ہونے والی ہے۔ پہلے کی طرح جمعہ کے روز بھی فوج اور باغیوں کے درمیان زبردست لڑائی جاری رہی۔ فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس لڑائی میں انسٹھ باغی اور ایک فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم باغیوں کے ایک ترجمان پی پلودیون نے فوج پر غلط پروپیگنڈا کرنے الزام عائد کیا ہے۔ ان کہنا ہے کہ اگر حکومت کے اعداد و شمار پر یقین کیا جائے تو اب تک جزیرہ پر ایک بھی تامل نہیں بچا ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی آگے بڑھنے کی جب بھی کوشش کرتے ہیں انہیں جانی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور ان کی پسپائی ہوتی ہے۔ امکان ہے کہ فریقین کے درمیان جب آئندہ ہفتے جنگ بندی باقاعدہ طور پر ختم ہوگی تو لڑائی میں شدت آئے گی اور مزید ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔ فوج کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل سرتھ فونیسکا نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ چاہتے کہ وہ اس برس اپنی میعاد پوری کرنے سے پہلے ٹائیگرز کو پوری طرح ختم کردیں۔ لیکن باغیوں نے کہا کہ وہ جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور اگر ٹائیگرز کے قبضے والے علاقے میں فوج نے گھسنے کی کوشش کی تو انہیں بھاری قیمت چکانی پڑےگی۔ | اسی بارے میں تامل باغی رہنما لندن میں گرفتار03 November, 2007 | آس پاس سری لنکا: لڑائی، چھ فوجی ہلاک16 October, 2007 | آس پاس کولمبو میں باغیوں کے فضائی حملے29 April, 2007 | آس پاس تامل باغیوں کا ٹی وی چینل01 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||