افغان صدارتی انتخاب اگست میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں صدارتی انتخابات بیس اگست کو کرائے جائیں گے۔ ملک کے آئین کے مطابق صدارتی انتخابات مئی میں کرائے جانے تھے لیکن بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر انتخابات کو مئی کی بجائے اگست میں کرائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ افغانستان کی سیاسی تاریخ میں سربراہ مملکت کو منتخب کرنے کے لیے دوسری مرتبہ الیکشن کرائے جا رہے ہیں۔ انتخابات میں تاخیر کی خبر پر کوئی حیرانی کی بات نہیں کیوں کہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر ملک کے کچھ حصوں میں انتخابات کرائے جانا ممکن نہیں ہے۔ دارالحکومت کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ایئن پینل اس التوا پر کسی کو حیرت نہیں ہوگی کیونکہ ملک کے مشرقی اور جنوبی حصے شدت پسندی کی لپیٹ میں ہیں اور ایسے میں پرامن اور منصفانہ انتخابات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ امید کی جا رہی ہے کہ مزید امریکی فوج کی افغانستان میں تعیناتی کے بعد حالات قدرے بہتر اور انتخابات کے لیے سازگار ہوں جائیں گے۔ تاہم کابل میں بعض اہم سیاسی راہنما اس امکان کے بارے میں شاکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے قلیل عرصے میں حالات کا قابو میں آنا مشکل نظر آتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کی بجائے ایک لویے جرگے کا انعقاد کروایا جائے جو نئے صدر کا انتخاب کرے۔ موجود صدر حامد کرزئی کی افغان عوام میں مقبولیت میں کمی آئی ہے اور نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ بھی ان کے مراسم زیادہ حوصلہ افزا نظر نہیں آتے۔ | اسی بارے میں طالبان کے خلاف نئی حکمت عملی01 January, 2009 | آس پاس پاکستان میں فوج بھیج سکتے ہیں: کرزئی15 June, 2008 | آس پاس قندھارجیل پر حملہ، 340 طالبان فرار14 June, 2008 | آس پاس طالبان سے معاہدے پر امریکی تشویش26 May, 2008 | آس پاس امریکی فوجیوں کے خلاف مقدمہ نہیں24 May, 2008 | آس پاس کرزئی پر حملے کے دو ملزم گرفتار05 May, 2008 | آس پاس افغانستان پر حملے کے اثرات 01 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||