BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 January, 2009, 05:31 GMT 10:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان صدارتی انتخاب اگست میں
صدر حامد کرزئی
صدر حامد کرزئی کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے
افغانستان کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں صدارتی انتخابات بیس اگست کو کرائے جائیں گے۔

ملک کے آئین کے مطابق صدارتی انتخابات مئی میں کرائے جانے تھے لیکن بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر انتخابات کو مئی کی بجائے اگست میں کرائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

افغانستان کی سیاسی تاریخ میں سربراہ مملکت کو منتخب کرنے کے لیے دوسری مرتبہ الیکشن کرائے جا رہے ہیں۔

انتخابات میں تاخیر کی خبر پر کوئی حیرانی کی بات نہیں کیوں کہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر ملک کے کچھ حصوں میں انتخابات کرائے جانا ممکن نہیں ہے۔

دارالحکومت کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ایئن پینل اس التوا پر کسی کو حیرت نہیں ہوگی کیونکہ ملک کے مشرقی اور جنوبی حصے شدت پسندی کی لپیٹ میں ہیں اور ایسے میں پرامن اور منصفانہ انتخابات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

یہ امید کی جا رہی ہے کہ مزید امریکی فوج کی افغانستان میں تعیناتی کے بعد حالات قدرے بہتر اور انتخابات کے لیے سازگار ہوں جائیں گے۔ تاہم کابل میں بعض اہم سیاسی راہنما اس امکان کے بارے میں شاکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے قلیل عرصے میں حالات کا قابو میں آنا مشکل نظر آتا ہے۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کی بجائے ایک لویے جرگے کا انعقاد کروایا جائے جو نئے صدر کا انتخاب کرے۔

موجود صدر حامد کرزئی کی افغان عوام میں مقبولیت میں کمی آئی ہے اور نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ بھی ان کے مراسم زیادہ حوصلہ افزا نظر نہیں آتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد