پاکستان میں فوج بھیج سکتے ہیں: کرزئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ انہیں شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے اپنے فوجی پاکستان کی سرحد کے پار بھیجنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن جواب میں پاکستان نے کہا ہے کہ وہ کسی کو اپنے اندورنی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیگا۔ کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ پاکستانی علاقے سے شدت پسند آ کر ان کے ملک میں افغان اور وہاں تعینات غیرملکی فوجیوں پر حملہ کرتے ہیں تو ان کے ملک کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع میں کارروائی کر سکے۔ کرزئی نے یہ بیان اس وقت دیا ہے جب افغانستان میں سکیورٹی اہلکار ان سینکڑوں شدت پسندوں کی تلاش کر رہے ہیں جو جمعہ کے روز قندھار میں ایک جیل پر خود کش حملے کے بعد وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔ سرحد پار حملوں کے حوالے سے صدر کرزئی نے خاص طور پر طالبان رہنما بیت اللہ محسود کوخبردار کیا۔ ’ لہذا بیت اللہ محسود کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اس کا پیچھا کریں گے اور ہم اس کو اب اس کے گھر میں نشانہ بنائیں گے۔۔۔‘ صدر کرزئی کافی عرصے سے پاکستان اور بین الاقوامی افواج سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندوں کا خاتمہ کیا جائے۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انہوں اس طرح کھل کر یہ کہا ہو کہ افغانستان کو سرحد پار جوابی حملوں کا حق ہے۔
لیکن اپنے رد عمل میں پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’ نہ تو ہم کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں گے، اور نہ ہی کسی کو اپنے معاملات میں مداخلت کرنے دیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے اور یہ کہ اس طرح کے بیانات باہمی تعلقات بہتر بنانے میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے اتوار کو کہا کہ ’ ہم یہ لڑائی امریکہ کے لیے نہیں لڑ رہے۔ یہ ہماری اپنی جنگ ہے۔ ہم دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔‘
تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا یہ پندرہ افراد بھی جیل سے فرار ہونے والوں میں شامل تھے۔ امریکی فوج نے کہا کہ انہوں نے پانچ مشتبہ شدت پسند گرفتار کیے ہیں۔ افغانستان کے حکام کے مطابق اس حملے میں تقریباً نو سو قیدی فرار ہوئے تھے جن میں تقریباً چار سو طالبان تھے۔ ایک اعلیٰ افغان اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جیل کے بڑے دروازے کو بم سے اڑا دیا گیا اور اس کے بعد درجنوں حملہ آور جیل میں گھس گئے۔ اسی دوران پندرہ پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو ئے۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ تیس موٹر سائیکل سوار جنگجوؤں اور دو خودکش بمباروں نے جیل پر حملہ کیا اور چار سو کے قریب طالبان قیدیوں کو رہا کروا لیا۔ | اسی بارے میں جیل پر حملہ طالبان کی کامیابی: نیٹو14 June, 2008 | آس پاس فرار طالبان محفوظ ہیں: طالبان14 June, 2008 | آس پاس جلال آباد: خودکش حملہ، فوجی ہلاک31 May, 2008 | آس پاس نیٹو کو افغانستان میں وسائل کی کمی03 June, 2008 | آس پاس خودکش حملہ، چار افغان فوجی ہلاک24 May, 2008 | آس پاس طالبان کی دھمکی، درجنوں سکول بند23 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||