BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 May, 2008, 03:46 GMT 08:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان پر حملے کے اثرات
ڈاکٹروں کے خیال میں بچوں میں امراض میں اضافہ غیر معمولی ہے
افغانستان میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں بچوں میں امراض کی شرح دگنی ہوگئی ہے۔

چند سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بچوں میں بڑھتے ہوئے امراض کی وجہ سن دو ہزارایک میں ملک میں طالبان حکومت کے خلاف امریکی حملے کے دوران استعمال شدہ یا کم تابکار یورینیم سے تیار شدہ بموں کا استعمال ہے۔

کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک تحقیقی گروپ نے امریکی حملے کے بعد افغان شہریوں کے ٹیسٹ کرنے پر تابکاری کے بہت واضح اثرات پائے تھے۔

امریکی فوج کے ایک ترجمان نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ حملے کے دوران استعمال کیئے جانے بموں سے افغان شہریوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں یا ان سے ملک کی آب و ہوا پر کوئی اثرا پڑا ہے۔

لیکن بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام ’ون پلینٹ‘ کے مطابق امریکی حملے سے ملک کے قدرتی ماحول اور شہریوں کی صحت پر مضر اثرات پڑے ہیں۔

قندہار اور کابل میں ڈاکٹروں نے اس سلسلے میں اعدادو شمار دکھائے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ شہریوں میں امراض بشمول نومولد بچوں میں پیدائشی پیچیدگیوں اور معذوری کے کیسوں میں گزشتہ دو سالوں میں واضح طور پر اضافہ ہوا ہے۔

ملک کے ایک مرکزی ہسپتال میں زچہ و بچہ کے شعبے سے منسلک ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان میں قابل از وقت پیدائش اور پیدائشی مغدوری کے کیس شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یا تو نومولد بچوں کے سر بہت چھوٹے ہوتے ہیں یا ان کے سر بڑے ہوتے ہیں، کچھ بچوں کی کمر پر کوئی ابھار ہوتا ہے یا ان کے ہاتھ پیر ٹھرے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ بچوں میں ان پیچیدگیوں کی کیا وجہ ہے۔

کینیڈا کے یورینیم میڈیکل ریسرچ سینٹر کا کہنا ہے کہ یہ شہریوں میں امراض کی وجہ کم تابکاری یورینیم کا استعمال ہے۔

اس ادارے نے سن دو ہزار دو اور دو ہزار تین میں افغان شہریوں کے قارورے حاصل کر کے کیا تھے۔


کچھ لوگوں میں تابکاری کے اثرات خلیج کی جنگ میں شریک فوجیوں کے مقابلے میں سو گنا زیادہ تھے۔

کینیڈا کے تحقیقاتی ادارے کے سربراہ اور امریکی فوج کے سابق مشیر آصف دوراکووک نے کہا کہ کم تابکاری والے یورینیم کی زد میں آنے کی وجہ سے یہ امراض پیدا ہو رہے ہیں جن میں جسم کے مختلف حصوں میں درد، انسان کے مدافعاتی نظام میں گڑبڑ اور پیھپڑوں کا متاثر ہونا شامل ہیں جو کہ بگڑ کا کینسر بھی بن جاتے ہیں۔

قدرتی یورینیم اور استعمال شدہ یا کم تابکاری والے یورینیم میں فرق کے باعث سائنسدان آسانی سے یہ معلوم کر سکتے ہیں مریض کس قسم کے یورینیم کی زد میں آی ہے یا مثاثر ہوا ہے۔

کم تابکاری والا یورینیم بنکر شکن بموںمیں استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر دوراکوک کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کی اتحادی افواج نے افغانستان میں کم تابکار یورینیم سے بنائے گئے بنکر شکن بم استعمال کیئے ہیں کیوں کے یہ زمین میں کئی دسیوں میٹر تک گھس جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایسے ہتھیار کی ضرورت تھی جو بنکر اور غاروں کو تباہ کر دے اور زمین میں زیادہ گہرائی تک گھس جائے۔

تورا بوار کی پہاڑیوں کے قریب دیہات کے لوگوں کو شک ہے کہ ان امراض کی وجہ ان بموں کے استعمال کی وجہ سے پھیل رہے ہیں جو اسامہ بن لادن کو غاروں کے سلسلے سے نکالنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں پھینکے گئے تھے۔

ایک دیہاتی یوسف خان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ایک عجیب سی بو پھیل گئی تھی اور درختوں پر پھل آنا بھی بند ہو گئے تھے۔

ایک اور دیہاتی بختارو نے بتایا کہ ان کے گاؤں کم از کم تین چار بچے ایسے پیدا ہوئے جن کے ہاتھوں، پاؤں یا چہرے عجیب سے تھے۔

افغانستان کے صحت کے نائب وزیر فیص اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اس طرح کی بیماریاں معمول کی بات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ بیماریاں خوارک کی کمی یا کسی تابکاری کی وجہ سے پھیل رہی ہیں۔

امریکی فوج اس بات کی تردید کے وہ کم تابکاری والےیورینیم سے تیار کردہ بم استعمال کر رہی ہے۔

اتحادی فوج کے ترجمان میجر کرس بیلچر نے وہ اس طرح کے بم استعمال نہیں کرتے نہ ہی ان کو اس کی ضرورت ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے ماضی میں اس طرح کے بم استعمال کیئے گئے ہوں۔

انہوں نے کہا انہیں نہیں معلوم کہ دو ہزار ایک اور دو ہزار دو میں کس طرح کے بم استعمال کیئے گئے ہیں لیکن اگر اس کی ضرورت ہوئی ہو گئی تو شاید یہ بم استعمال کیئے گئے ہوں۔

امریکہ کی رینّ کارپوریشن کے ڈاکٹر راس اینتھونی نے کہا کہ افغانستان میں کم تابکار یورینیم سے بنائے گئے بم بہت ہی قلیل مقدار میں استعمال کیئے گئے ہوں گے۔

انہوں نے ہا کہ ان کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اتنی کم مقدار میں کم تابکاری والے یورینیم والے بم استعمال کرنے سے اس طرح کی ماحولیاتی مسائل استعمال ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد