امریکی فوج میں ماہرین بشریات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی دفاعی ادارہ پینٹاگون عراق اور افغانستان میں جنگ جیتنے کے لیے ہر طریقہ بروئے کار لا رہا ہے۔ ادارہ ان ممالک میں جھڑپوں میں استعمال کی جانے والی ایسی گاڑیاں بھجوا رہا ہے جن پر بارودی سرنگوں کا اثر نہ ہو۔ اسکے علاوہ عراق اور افغانستان میں دشمن کو پہچاننے کے لیے جدید ترین بائیو میٹرک آلات بھی بھجوائے جا رہے ہیں۔ لیکن صرف یہی نہیں بلکہ امریکی فوج نے ہیومن ٹرین سسٹم (Human Terrain System) کے عنوان سے بھی ایک پروگرام ترتیب دیا ہے جس کا مقصد عراق اور افغانستان میں موجود مختلف سماجی گروہوں کے بارے میں فوج کو آگاہ کرنا ہے۔ اس پروگرام کا بڑا انحصار ان اینتھروپالوجسٹ یا ماہرین بشریات پر ہے جو انسانوں اور انسانی تہذیب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ فوج کے سپیشل آپریشن کے شعبے کے ریٹائرڈ کرنل سٹیو فونڈاکارو، جو اس پروگرام کی نگرانی کر رہے ہیں، کی خواہش ہے وہ ان ماہرین بشریات کو پروگرام میں شام کریں جو مذکورہ ممالک کی معاشرت سے واقف ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ ’سماجیات کے ماہرین عموماً اس کھوج میں ہوتے ہیں کہ کسی معاشرے میں فیصلہ سازی کا عمل کیا ہوتا ہے اور لوگوں کے رویے کیسے بنتے ہیں۔ اس قسم کے ماہرین ہمیں بتا سکتے ہیں کہ مقامی لوگ اپنے ارد گرد کے مسائل کو کیسے دیکھتے ہیں اور اُن کی نطر میں ان مسائل کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔‘ لیکن فوج کو اس مسئلے کا سامنا ہے کہ امریکہ میں بہت کم بلکہ ہوا یہ ہے کہ ماہرین بشریات کے ایک گروپ نے پہلے ہی اپنے ارکان سے حلف لے لیا ہے کہ وہ امریکی فوج کی عراق اور افغانستان میں مزاحمت کاروں کے خلاف جاری کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ اجتماعی عقل
ہر ٹیم میں معاشرتی علوم کا کم از کم کا ایک ماہر یا ماہر بشریات، ایک ماہر زبان اور فوج کے سپیشل آپریشن کے شعبے یا خفیہ ایجنسی کا ایک شخص شامل ہے۔ ان ٹیموں کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کرنل فونڈاکارو کا کہنا تھا کہ ’ ٹیم میں شامل ماہر بشریات آپ کو ان ممالک کے مسائل کی پیچیدگیوں کے بارے میں بتاتا ہے جبکہ تجربہ کار فوجی ان معلومات کی بنیاد پر فوجی حکمت عملی ترتیب دینے میں مدد دیتا ہے۔یوں ان ٹیموں کے ارکان کے مجموعی علم یا حمکت سے استفادہ کیا جاتا ہے۔‘ یہ ’مجموعی حکمت‘ حاصل کرنے کےلیے جن غیر فوجی افراد کی خدمات استعمال کی جاتی ہیں ان میں سے ہر ایک پر محکمہ دفاع کو سالانہ دو لاکھ ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں جس میں مزاحمت کاروں کے ہاتھوں ان افراد کے اغوا کی صورت میں انشورنس یا بیمہ کا خرچ بھی شامل ہے۔ جس طرح پینٹاگون نے اپنے دیگر پرگراموں کے ٹھیکے فوج سے باہر مختلف کمپنیوں کو دیے ہوئے ہیں اسی طرح ماہرین کی اس قسم کی ٹیمیں مہیا کرنے کا ٹھیکہ بھی ’بی اے‘ نامی ایک کمپنی کے پاس ہے۔ مسلح بشریات مذکورہ کمپنی نے ماہرین بشریات کی اسامیوں کے لیے جو اشتہار دیا اس میں اس کا کہنا تھا کہ ’ مقامی لوگوں کا اعتبار حاصل کرنا اتحادی فوجوں اور مقامی مزاحمت کاروں کے درمیان جاری جنگ میں بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔‘ لیکن لگتا ہے کہ امریکہ میں ماہرین بشریات کی اکثریت کمپنی کے اس اشہار سے زیادہ متاثر نہیں ہے۔ گزشتہ برس امریکہ میں ماہرین بشریات کی سے سب سے بڑی تنظیم ’امیرکن انتھروپولوجیکل سوسائٹی، نے عراق میں جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ تب سے اس سوسائٹی نے ایک قومی کمیشن تریب دیا ہوا ہے جس کا مقصد قومی سلامتی کے امور میں ماہرین بشریات کی شمولیت کا جائزہ لینا ہے۔ زیادہ تر امریکی ماہرین بشریات سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے فوجی پروگراموں میں حصہ لینا غیر اخلاقی کام ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ ان سے حاصل کیے گئے علم کی بنیاد پر جو کارروائیاں کی جائیں گی ان سے انسانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے معاشروں کے ایک ماہر بشریات نے اس سلسلے میں کہا کہ ’ میں سمجھتا ہوں میں مجھے ان لوگوں کی حفاظت اور بہتری کے لیے کام کرنا چاہیئے جنہوں نے اپنی تہذیب کے بارے میں اپنے علم میں مجھے شریک کیا ہے، بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ میری اصل ذمہ داری یہی ہے کہ میں ان کی فلاح کا خیال کروں۔‘ اس مسئلے پر کھل کر بات کرنے والے سین ہوزے یونیورسٹی کے پروفیسر روبرٹو گونزالیز کا مزید کہنا تھا کہ پینٹاگون بشریات کے مضمون کو ’مسلح‘ کرنے کا مرتکب ہو رہا ہے۔ پروفیسر روبرٹو گوزالیز نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ پینٹاگون کے اس پروگرام کے تحت تشکیل کی جانے والی ’ٹیموں کی حیثیت نوآبادیاتی دور میں ان ٹیموں کی تھی جنہیں برطانیہ نے ایسے مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔‘ بیگانگی ان کا کہنا ہے کہ ’ پروگرام کی نوعیت ماضی کے پروگراموں سے یکسر مختلف ہے۔ یہ ایک بالکل نیا فلسفہ ہے، نئی قسم کی تنظیم ہے جس کا کام بھی نیا ہے اور مقاصد بھی نئے ہیں۔ لوگ عموماً نئی چیز کو اپنانے سے گھبراتے ہیں۔‘ کرنل فونڈاکارو کا کہنا ہے کہ ویتنام کی جنگ کے بعد سے معاشرتی علوم کے ماہرین سرکاری ملازمت سے دور ہو گئے ہیں، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اس نئے پروگرام کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کرنا آسان کام نہیں ہے۔ کرنل فونڈاکارو نے بتایا کہ ’ نوجوان اور بہادر ماہرین بشریات اس پروگرام میں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔ یہ لوگ پیشہ ورانہ اور جسمانی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘ ان قدرے جوان ماہرین بشریات میں ورجینیا کی کرسٹوفر نیوپورٹ یونیورسٹی کے پرفیسٹر ڈاکٹر مارکس گرفن بھی شامل ہیں جو کہ عراق سے باقاعدگی سے بلاگ بھی لکھتے ہیں۔ ایک بلاگ میں انہوں نہ لکھا: ’ میں باقاعدگی سے ورزش کرتا ہوں۔ میں فوجی انداز میں اپنے بال کاٹتا ہوں اور دیکھنے میں ایک سارجنٹ لگتا ہوں۔ گزشتہ ہفتے میں نے تربیت کے دوران ایم نائن اور ایم فور قسم کی بندوقیں بھی چلائیں۔‘ اپنے بلاگ میں ان کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے ماہر نہیں بلکہ وہ انسانی آبادی، ماحولیات اور خوراک کے ماہر ہیں۔ پینٹاگون کے مذکورہ پروگرام کو ترتیب دینے والی ایک ماہر ڈاکٹر مونٹگمری میکفیٹ کی نظر میں ’ اس پروگرام میں شامل ہونے والوں کےلیے ضروری ہے کہ وہ خاص ہنر، تحقیق کے طریقہ کار اور خاص نقطہ نظر کے مالک ہوں۔‘ ڈاکٹر مونٹگمری بھی پینٹاگون کے پروگرام پر تنقید کو بلاجواز قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بشریات کے مضمون کو ’مسلح‘ کرنے کی کوشش نہیں کر رہیں بلکہ پینٹاگون کو ’بشریات‘ سکھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تیزی سے پھیلتا پروگرام امریکی فوج کی مرکزی کمان عراق اور افغانستان میں اس پروگرام کے تحت کام کرنے والی ٹیموں کی تعداد چھ سے بڑھا کر اٹھائیس کرنا چاہتی ہے۔ کرنل فونڈاکارو کے بقول یہ نئی ٹیمیں زیادہ بڑی ہوں گی اور ان میں معاشرتی علوم کے دو دو ماہرین شامل ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ماہرین بشریات کے اعتراضات کے باوجود اب تک چھوٹے پیمانے پر جاری اس پروگرام کا دائرہ کار بہت تیزی سے بڑھایا جا رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||