سابق فوجی خود کشی پر مائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں میں عام شہریوں کے نسبت خود کشی کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ تجزیہ نگاروں نے 320,890 مردوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کا معائنہ کیا جن میں سے ایک تہائی 1917 اور 1994 کے درمیان امریکہ کی فوج میں شامل رہے تھے۔ زیادہ تعلیم یافتہ، سفید فام اور زیادہ عمر کے مردوں میں خود کشی کے رجحانات سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں اور ان میں بھی جو جسمانی طور پر معذور یا کسی جذباتی کشمکش میں مبتلہ ہوں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس تحقیق کے نتائج سے یہ بات واضح ہے کہ عراق اور افغانستان میں فرائض انجام دینے والے فوجیوں کی ذہنی حالت پر توجہ کی ضرورت ہے۔ تحقیق میں ان لوگوں کو شامل کیا گیا جنہوں نے دوسری جنگ عظیم، ویتنام، کوریا اور خلیج کی جنگوں میں حصہ لیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فوج میں فرائض انجام دینے والوں میں خودکشی کا رجحان ان افراد سے زیادہ ہے جو کبھی بھی مسحلہ افواج کا حصہ نہیں رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنگ میں حصہ لینے والے ان سابق فوجیوں میں خود کو اسلحہ سے ہلاک کرنے کا رجحان بھی زیادہ پایا جاتا ہے۔ تحقیق میں شامل پورٹ لینڈ سٹیٹ یونیورسٹی کے مارک کپلان کا کہنا ہے کہ جنگ میں حصہ لینے والے ان فوجیوں کی ذہنی حالت کا معائنہ کیا جانا چاہیے تاکہ ان میں خودکشی کے رجحان اور ان کی سوچ کا پتہ لگایا جا سکے اور اگر ضرورت محسوس ہو تو اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ان مرییضوں کی کسی بھی قسم کے اسلحہ تک رسائی نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجیوں کی ذہنی کیفیت کے معائنے کا خاص خیال نہیں رکھا جاتا اور عام ڈاکٹر اس قسم کے مسائل سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس ایسے مریضوں کے علاج کے لیے وقت ہے۔ | اسی بارے میں ہلمند: دو برطانوی فوجی ہلاک05 March, 2007 | آس پاس عراق: اٹھارہ امریکی فوجی ہلاک20 January, 2007 | آس پاس عراق: چھ امریکی فوجی ہلاک02 April, 2007 | آس پاس عراق دھماکوں میں 70ہلاک 30 December, 2006 | آس پاس ’عراقی کے سر میں گولیاں ماریں‘07 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||