’امریکہ افغان عدلیہ کو ثبوت نہیں دیتا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس فرسٹ نے کہا ہے کہ امریکہ منصفانہ مقدمے کے معیار کی خلاف ورزی کر کے افغانستان کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ افغان عدالتوں میں گوانتانامو میں زیر حراست رہے ہوئےافراد کے مقدمات میں امریکہ ثبوت پیش نہیں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد پر مقدمات یا تو بہت کم یا پھر بغیر ثبوتوں کے چلائے جا رہے ہیں۔ اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ افغانستان میں منصفانہ مقدمے کے بین الاقوامی معیار کی خلاف ورزی ہو رہی ہے جبکہ امریکہ تماشائی بنے کھڑا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کی خصوصی حراست کی سہولت گوانتانامو بے میں ہے۔ یہ سہولت بہت جلد امریکہ کے لیے درد سر بن گیا جب غیر قانونیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آئے۔ ان الزامات کو رد کرنے کا ایک طریقہ زیر حراست افراد کی ان کے ممالک منتقلی۔ اس وجہ سے زیر حراست افغان افراد کی کابل واپسی ہوئی۔
ہیومن رائٹس فرسٹ کی سحر محمد علی کا کہنا ہے ’ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ افغان حکام کو فوجیوں یا دیگر اہلکاروں کے نام مہیا کرے جنہوں نے ان افراد کو حراست میں لیا تا کہ یہ فوجی یا اہلکار گواہی دے سکیں۔ اس کے علاوہ امریکی حکام کے پااس جو بھی ثبوت ہیں ان کو افغان حکام کے حوالے کیے جائیں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ عراق میں عراقی عدالت کی مجرمانہ مقدموں میں مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے فوجیوں کو ثبوت اکھٹے کرنے کی تربیت دی جاتی ہے اور وہ گواہی بھی دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی فوجی عراق میں یہ کر سکتے ہیں تو افغانستان میں بھی کر سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’خودکشی کرنے والا سعودی فوجی‘01 June, 2007 | آس پاس گوانتاناموکا کتابچہ ویب پر شائع 15 November, 2007 | آس پاس گوانتانامو بے کا مستقبل داؤ پر05 December, 2007 | آس پاس ٹیپ ضائع کرنے پر پیشی12 December, 2007 | آس پاس ’طالبان سے مذاکرات کریں‘09 May, 2007 | آس پاس لاپتہ قیدی: امریکہ پر نیا الزام01 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||