امریکی فوجیوں کے خلاف مقدمہ نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک فوجی عدالت نے ان دو فوجی اہلکاروں کے خلاف مجرمانہ الزامات عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی یونٹ پر الزام تھا کہ گزشتہ برس افغانستان میں اس نےایک کارروائی کے دوران انیس شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ فوجی عدالت نے کہا ہے کہ یونٹ نے جوابی فائرنگ اپنے دفاع میں اس وقت کی جب ان پر کار بم حملہ کیا گیا تھا۔ تاہم عدالت نے اپنے تاثرات میں تربیت کے کچھ مسائل کی جانب توجہ دلوائی ہے۔ واضح رہے کہ اس واقعے کے دو ماہ بعد امریکی فوج نے اس پر معذرت کرتے ہوئے مرنے والوں کو ورثاء کو معاوضے کی پیشکش کی تھی۔ اس سے پہلے گزشتہ برس ایک فوجی جرنیل یہ کہہ چکے ہیں کہ فوج کو اپنے کسی اقدام کی معافی نہیں مانگنی چاہیے تھے۔ ادھر بغداد کے جنوب مغرب میں فوج نے ایک امریکی فوجی ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ جبکہ فلوجہ میں سٹرک کے کنارے رکھے بم کے پھٹنے سے چھ امریکی فوجی زخمی اور ان کا عراقی مترجم ہلاک ہوگیا۔ | اسی بارے میں ہلمند: نیٹو حملہ، عام شہری ہلاک30 June, 2007 | آس پاس ’بمباری سے پچاس شہری زخمی‘03 August, 2007 | آس پاس تین شہری نیٹو فوج کا نشانہ: حکام07 October, 2007 | آس پاس شہری نہیں مجرم مارے : امریکہ21 October, 2007 | آس پاس قرآن پرگولیاں، دو افغان شہری ہلاک23 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||