کرزئی پر حملے کے دو ملزم گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے صدر حامد کرزئی پر حملے کے الزام میں دو افراد گرفتار کر لیا ہے۔ گزشتہ اختتام ہفتہ صدر حامد کرزئی پر اس وقت حملے کیا گیا تھا جب وہ کابل میں ایک فوجی پریڈ میں شرکت کر رہے تھے۔ افغانستان انٹیلی جنس چیف امراللہ صالح کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں سے ایک کا تعلق محکمہ دفاع سے ہے جبکہ دوسرا وزارتِِ داخلہ کا ملازم ہے۔ امراللہ صالح کے مطابق افغان حکومت اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ اس حملے کے پیچھے پاکستان کے قبائلی علاقے میں سرگرم القاعدہ عناصر کا ہاتھ تھا۔ طالبان جنگجو پہلے ہی اس حملے کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔ مسٹر امراللہ صالح نے اتوار کے روز اخبار نویسوں کو بتایا کہ حملے میں القاعدہ کا کردار بہت واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر اس حملے میں ملوث ہیں ان کے اڈے پاکستان میں ہیں جہاں انہیں نہ ہونے کے برابر دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان، جو خود بھی جنگجوؤں کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے، کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی سر زمین پر موجود جنگجوؤں کی سرکوبی کے لیے ہر ممکن اقدام کیے ہیں۔ حملے کے بعد طالبان کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ہتھیار بندوں نے صدر کرزئی کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا تھا لیکن وہ دکھانا چاہتے تھے کہ وہ کتنی آسانی سے ایسی تقریبات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں کابل: کرزئی پریڈ حملے میں محفوظ27 April, 2008 | آس پاس افغانستان اور خوراک کا بحران30 April, 2008 | آس پاس افغانستان:گیارہ پولیس اہلکار ہلاک14 April, 2008 | آس پاس افغانستان پر حملے کے اثرات 01 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||