امریکہ میں فراڈ، اربوں کا نقصان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوں جوں عالمی اقتصادی بحران کے اثرات واضح ہو رہے ہیں توں توں دنیا کے امیر ترین ممالک میں کی جانے والے مالی فریبوں سے بھی پردہ اٹھ رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین اب اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایسے مالی سکینڈلز میں نہ صرف انفرادی سرمایہ کاروں کے ڈوبنے کا خطرہ ہے بلکہ بڑے بڑے بینک بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے کا تازہ ترین مالی فریب اس وقت سامنے آیا جب نیو یارک کے ارب پتی سرمایہ کار برنارڈ میڈوف کا ہیج فنڈ بیٹھ گیا۔ اس ہیج فنڈ کی ناکامی کو امریکہ کی تجارتی منڈی وال سٹریٹ کی تاریخ کے بدترین مالی سکینڈلز میں سے ایک بتایا جا رہا ہے۔ اور اس کی ناکامی کے بعد رفتہ رفتہ ان بینکوں کے نام سامنے
دنیا کےکئی بڑے بنکوں نے کہا ہے کہ پچاس ارب ڈالر کے ایک فراڈ میں ان کی بھی رقم ماری گئی ہے۔ ان میں برطانیہ کا رائل بینک آف سکاٹ لینڈ، سپین کا سینٹینڈیر اور فرانس کا بی این پی پاریبا بھی شامل ہے۔ برنارڈ میڈوف کو پچھلے جمعے اس الزام میں حراست میں لیا گیا تھا کہ ان کے ہیج فنڈ میں بے ضابطگیوں سے عالمی سرمایہ کاروں کے پچاس ارب ڈالر ڈوب گئے ہیں۔ اس سکینڈل کا عالمی بینکاری پر کیا اثر ہو گا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سپین کے سب سے بڑے بینک سینٹینڈر نے برنارڈ میڈوف کے کاروبار میں تین ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی تھی۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ شنگھائی بینک نے ایک ارب ڈالر، فرانس کے بی این پی پاریبا نے چھیالیس کروڑ ڈالر اور رائل بینک آف سکاٹ لینڈ نے اس فنڈ میں چالیس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔
برنارڈ میڈوف کے خلاف الزامات میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی حراست سے پہلے اپنے چند قریبی ساتھیوں کو بتایا تھا کہ ان کا فنڈ ایک جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں، وہ ختم ہو چکے ہیں اور خود کو حکام کے حوالے کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلے وہ اپنے بچے کھچے بیس تیس کروڑ ڈالر اپنے مخصوص کارندوں، دوستوں اور رشتہ داروں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔ ان الزامات میں کہا گیا ہے کہ برنارڈ میڈوف نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ اس فنڈ کو ایک ایسی سکیم کے تحت چلا رہے تھے جس میں نئے سرمایہ کاروں کا پیسہ پرانے سرمایہ کاروں کو منافع کے طور پر بانٹ دیا جاتا ہے اور یوں فنڈ کی حقیقی کمائی ایک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ برنارڈ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انہیں پوری امید ہے کے وہ ان افسوسناک حالات سے جلد ہی نکل آئیں گے۔ لیکن اگر ان کے ستر سالہ مؤکل پر لگائے گئے الزام درست ثابت ہوئے تو انہیں بیس برس قید اور چاس لاکھ ڈالر جرمانہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ برنارڈ میڈوف کو سزا دینے سے کہیں زیادہ اہم یہ جانچنا ہو گا کہ امریکہ کہ بڑے بڑے اور پرانے سرمایہ کار اتنے وسیع پیمانے پر فریب کر کیسے لیتے ہیں۔ کیا انہیں کوئی پوچھنے بلانے والا نہیں؟ میڈوف کے ہیج فنڈ کا ایک بڑا سرمایہ کار ادارہ برامڈیئن آلٹرنیٹوز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ایک حیران کن امر ہے کہ اس طرح کے فریب سالہا سال سے چل رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے پیچھے کار فرما عوامل پر نظر نہیں رکھی جاتی۔ اس ادارے کی سربراہ نکولا ہارلک کا کہنا ہے کہ لوگوں کو مختلف بینکوں کے رویے پر سخت تشویش ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کے بینکوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر سرمایہ کاری کی اور غلط لوگوں کو قرضے جاری کیے۔ اور یہ کیس بھی اسی رویے کی ایک مثال ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ بینک میڈوف کو قرضے جاری کر رہے تھے تو کنٹرولز کہاں تھے۔ ایسا کیونکر ممکن تھا کہ ایچ ایس بی سی اور سینٹینڈر جیسے بڑے بینک ان کی مالی صحت چھانے بغیر انہیں قرضے جاری کر رہے تھے۔ نکولا ہارلک کو اپنے سوالوں کا جواب ملتا ہے یا نہیں یہ کہنا تو قبل از وقت ہو گا لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ عالمی اقتصادی بحران ابھی مغربی ممالک میں بسنے والے ارب پتیوں کے ایسے کئی کھیل بے نقاب کرے گا جو ترقی پذیر ممالک کے باسیوں کی پہنچ تو کیا شاید سمجھ سے بھی باہر ہوں۔ | اسی بارے میں مزید باون ہزار کی چھانٹی17 November, 2008 | آس پاس برطانیہ: کساد بازاری کی وارننگ22 October, 2008 | آس پاس عالمی بازارِ حصص پر خوف کے سائے10 October, 2008 | آس پاس حصص:پہلے مندی پھر کچھ بہتری07 October, 2008 | آس پاس پیکج منظور ہو جائے گا: بش27 September, 2008 | آس پاس مالی بحران کا دائرہ پھیل رہا ہے18 September, 2008 | آس پاس ’ایسا مشکل وقت پہلے نہیں دیکھا‘15 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||