BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 November, 2008, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کی سرحد پر فوج بڑھے گی
افغانستان میں غیر ملکی فوجی
طالبان کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے
امریکی فوج نے کہا ہےکہ ساڑھے تین سے چار ہزار فوجیوں پر مشتمل اس کی جو برگیڈ جنوری میں افغانستان بھیجی جانے والی ہے، وہ ملک کے سرحدی علاقوں میں تعینات کی جائے گی۔

امریکی فوج کے مطابق یہ برگیڈ پاکستان سے افغانستان میں شدت پسندوں کا داخلہ روکنے کی کوششوں کو موثر بنائے گی۔

یہ کمک تقریباً بیس ہزار افراد پر مشتمل اس مجوزہ فوج کا حصہ ہوگی جو طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیجی جاسکتی ہے۔

فوج کے ترجمان کرنل گریگ جولیان نےکہا کہ اضافی فوج ان علاقوں میں تعینات کی جائے جہاں ابھی فوج مناسب تعداد میں موجود نہیں ہے۔ ان میں تقریباً بارہ وہ افغان صوبے شامل ہیں جو پاکستان کی سرحد پر واقع ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق شدت پسند عام طور پر افغانستان میں داخل ہونے کے لیے انہیں علاقوں سے سرحد پار کرتےہیں۔

’ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ کچھ مخصوص علاقے ہیں جہاں سے (پاکستان سے) درانداز افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔ اور اب ہم ان علاقوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔‘

اسی افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ایک اعلی سطح کا وفد کابل پہنچ گیا ہے۔

یہ وفد ایسے مرحلے پر افغانستان پہنچا ہے جب طالبان کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ وفد میں پندرہ ممالک کے سفارت کار اور سرکاری افسران شامل ہیں اور وہ افغان حکومت سے اس بارے میں بھی تبادلہ خیال کرے گا کہ بیس ارب ڈالر کی وہ امداد، جس کا وعدہ گزشتہ برس کی امدادی کانفرنس میں کیا گیا تھا، کس طرح خرچ کی جائے۔

امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما نے صدر حامد کرزئی سے کہا ہے کہ طالبان کی مزاحمت کا قلع قمع کرنا انکی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک بیان کےمطابق وفد شورش سے نمٹنے، اچھی حکمرانی اور ترقی کے لیے علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دے گا۔

وفد میں زلمے خلیل زاد بھی شامل ہیں جن کےبارے میں کہا گیا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں امیدوار ہوسکتے ہیں۔

افغانستان میں نیٹو کی قیادت والی بین الاقوامی فوج سکیورٹی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت کام کر رہی ہے اور حالیہ مہینوں میں اس کی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت پر افغان حکومت نے کھل کر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ اس کی ٹیم امن و استحکام کو فروغ دینے میں اقوام متحدہ کے رول پر بھی زور دے گی۔

اسی بارے میں
طالبان کاجنگ جیتنے کا عزم
14 November, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد