عراق: امریکی افواج مزید تین سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی کابینہ نے ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجیوں کی ملک میں مزید تین سال تک موجودگی کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت امریکی فوجی دستے آئندہ سال عراق کے عام رہائشی علاقوں سے دستبردار ہو جائیں گے اور دو ہزار گیارہ میں عراق سے لوٹنا شروع کر دیں گے۔ کابینہ کی اس منظوری کو اب یہ منصوبہ حتمی منظوری کے لیے عراقی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے دی گئی مدت کے اختتام سے قبل دونوں ملک امریکی افواج کی عراق میں موجودگی کے بارے میں ایک نئی دوطرفہ مفاہمت کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی مدت اکتیس دسمبر دو ہزار آٹھ کو ختم ہو رہی ہے۔ عراق نے اکتوبر میں امریکہ کو افواج کی موجودگی کے بارے میں معاہدے کے مسودے میں نئی تجاویز دی تھیں جس کا امریکہ نے جواب دیا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن نے اس پہلے کہا تھا کہ اس سلسلے جو معاہدہ ہے وہ حتمی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ عراق میں ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجیوں کے علاوہ برطانیہ کے بھی چار ہزار ایک سو فوجی ہیں اور برطانیہ عراق امریکہ مفاہمت طے پانے کا انتظار کر رہا ہے تا کہ اسی مفاہمت کو مثال کے طور پر استعمال کر سکے۔ عراقی کابینہ کا اجلاس اتوار کو ہوا اور اتوار ہی کو بغداد اور دیالہ میں دو بم حملے ہوئے جن میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں نیٹو کا سامان لے جانے والے ٹرک اغواء10 November, 2008 | پاکستان فوج عراق سےکم افغانستان میں زیادہ09 September, 2008 | آس پاس پاکستان اہم میدان جنگ ہے: بش09 September, 2008 | آس پاس عراق سے فوجوں کی جزوی واپسی09 September, 2008 | آس پاس عراق خودکش دھماکہ 25 ہلاک16 September, 2008 | آس پاس عراق، کنٹرول نئے جنرل کے حوالے 16 September, 2008 | آس پاس امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج17 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||