آئس لینڈ: شرحِ سود اٹھارہ فیصد تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئیس لینڈ میں جو اقتصادی تباہی سے بچنے کی کوششوں میں ہے، شرح سود کو بارہ فیصد سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کر دیا گیا ہے۔ محض دو ہفتے قبل آئس لینڈ میں شرحِ سود کو پندرہ اعشاریہ پانچ فیصد سے کم کیا گیا تھا۔ مرکزی بینک کےگورنر کا کہنا تھا کہ شرحِ سود میں اضافہ عالمی مالیاتی فنڈ سے کیےگئے معاہدے کا ایک حصہ ہے۔ آئس لینڈ نے فنڈ سے دو بلین ڈالر قرض لیا ہے۔ آئس لینڈ کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ملک کو قرضوں میں مزید چار بلین ڈالر کی ضرورت ہے اور اس نے یورپ کے مرکزی بینک اور امریکی فیڈرل ریزرو سے رابطہ کیا تھا۔ آئس لینڈ کے مرکزی بینک کے گورنر ڈیوڈ اوڈسن کے مطابق شرحِ سود میں اضافہ مختصر عرصے تک مؤثر رہے گا اور اس اقدام کا مقصد کرنسی کو مستحکم کرنا ہے۔
ایک بیان میں مرکزی بینک نے کہا ہے: ’تین بینکوں کی تباہی اور خارجی حالات کے باعث ملک میں زرِ مبادلہ کی مارکیٹ مفلوج ہو گئی تھی۔‘ حکومت نے زرِ مبادلہ اور کرنسی کی ٹریڈنگ پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آئس لینڈ کے مسائل کا آغاز اس وقت سے ہوا ہے جب اس کے تین بڑے بینکوں کو جو مالیاتی بحران کا شکار تھے، تحویل میں لینا پڑا۔ دریں اثناء بینک آف انگلینڈ نے تخمینہ لگایا ہے کہ عالمی مالیاتی فرموں کو قرضوں کے مسلسل بحران کے باعث دو اعشاریہ آٹھ ٹرلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ بینک نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ میں ایک اعشاریہ دو بلین مالکانِ مکان کے لیے یہ خدشہ ہے کہ ان کے مکانوں کی قیمت، اس مالیت سے کم ہو گئی ہے جس کو مدِ نظر رکھ کر بینکوں نے قرضہ فراہم کیا تھا۔ بی بی سی کے بزنس ایڈیٹر رابرٹ پیٹسن کا کہنا کہ دنیا بھر میں ٹیکس دہندگان نے عالمی بینکوں کی مدد کے لیے اب تک پانچ بلین پاؤنڈ خرچ کیے ہیں۔ |
اسی بارے میں منصوبہ نامنظور، مارکیٹوں کا بُرا حال29 September, 2008 | آس پاس ’امریکہ کا بہت نقصان ہوگا‘ 30 September, 2008 | آس پاس دنیا میں ہر جگہ مندی ہی مندی29 September, 2008 | آس پاس امریکی معیشت خطرے میں ہے:بش25 September, 2008 | آس پاس مالیاتی بحران:’دنیا ہماری پیروی کرے‘22 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||