BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 October, 2008, 00:37 GMT 05:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوباما کے قتل کی سازش ناکام

بریڈلی ایفکٹ کے تحت سفید فام ووٹروں کی پولنگ بوتھ میں جا کر نیت بدل جاتی ہے
امریکی خفیہ ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں نےامریکی صدارتی امیدوار باراک اباما کے قتل کی سازش کرنے کے الزام میں دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ دونوں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما سمیت سو سے زیادہ سیاہ فام امریکیوں کے قتل عام کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

گرفتارشدگان کا تعلق سفید فاموں کی ایک نسل پرست تنظیم سے ہے۔انہیں ٹینیسی ریاست کے جیکسن شہر کی ایک وفاقی عدالت میں پیر کے روز پیش کیا گیا جہاں انکے خلاف فوجداری کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

ان پر باراک اوباما کے قتل کی سازش اور ایک سیاہ فام اکثریتی اسکول پر حملہ کر کے ایک سو سے زائد افراد کو قتل کرنےاور ایک اسلحے کی دکان لوٹنے کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان کی تحویل سے ایک شاٹ گن بھی برآمد کی گئی ہے۔

اس بات کا اعلان پیر کے روز جیکسن ٹینیسی میں وفاقی حکومت کے وکیل یا ڈپٹی اٹارنی جنرل، امریکی خفیہ سروسز کے ایک سپیشل ایجنٹ، بیورو آف الکوحل، ٹوبیکو، فائر آرمس اینڈ ایکسپلوسوز (اے ٹی ایف) کے ایک ایجنٹ اور پولیس کے ایک اعلی اہلکار نے کیا۔

تفتیشی ایجنسیوں کا کہنا ہےکہ وہ اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہیں لیکن ان کے خیال میں ان باراک اوباما تک پہنچنا ان دونوں کے بس کی بات نہیں تھی۔

مقدمے کے مطابق ڈینیل کووارٹ اور پال اسکیلیسمین نامی یہ نوجوان، جنکی عمریں اٹھارہ اور بیس سال ہیں، انٹرنیٹ پر ایک مشترکہ دوست کے توسط سے ملے اور ’سفید فام طاقت یا وہایٹ پاور‘ اور نیو نازی ’سکن ہیڈ‘ فلسفے میں اپنے یقین پر بحث کرنے لگے۔

کووارٹ اور اسکلیسیمین قتل عام کرنے پر بھی بات چیت کرنے لگے۔ ان کے خلاف قائم کیے جانے والے مقدمے میں کہا گیا ہےکہ قتل عام کرنے کیلیے انہوں نے اسلحے کی ایک دوکان کو بھی لوٹنے کاہ منصوبہ بنایا تھا-

جیکسن ٹینیسی کے وفاقی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مزید تقصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان دونوں نوجوانوں نے ٹینیسی میں واقع ایک افریقی امریکی یا سیاہ فام اکثریتی ہائي اکسول میں قتل عام کرنے اور اپنے ارادے کے آخری عمل کے طور پر باراک ابامہ کو قتل کرنے کے منصوبے پر بات چیت کی تھی اور اپنی کارروائي کے دوران اپنی جانیں قربان کردینے کا بھی عہد کیا تھا۔

یہ لوگ اٹھاسی سیاہ فاموں کو گولی مار کر اور چودہ کو سر قلم کرکے قتل کرنا چاہتے تھے۔ ان نمبروں کی سفید فام نسل پرست تحریک میں علامتی اہمیت ہے۔

آئندہ ایک ہفتے میں ہونیوالے صدارتی انتخابات میں باراک اباما، جو سبھی انتخابی جائزوں کے مطابق اپنے حریف جان مکین سے آگے چل رہے ہیں، ایک انتہائی کرشماتی شخصیت بن کر ابھرے ہیں اور بہت سے لوگ صدر جان ایف کینیڈی سے ان کا موازنہ کرتے ہوئے انہیں ’سیاہ فام کینڈی‘ بھی کہہ رہے ہیں-

مسٹر اوباما کی جانب سے ابھی اس سلسلے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد