BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 October, 2008, 22:11 GMT 03:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کئی اور بینکوں کے ڈوبنے کا خطرہ
آئی ایم ایف نے بہت سیاہ تصویر پییش کی ہے
امریکہ کے وزیر خزانہ ہینری پالسن نے خبردار کیا ہے حکومت کی طرف سے مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے پیکج کےاعلان کے باوجود اب بھی کئی بینکوں کے ڈوب جانے کا خطرہ موجود ہے۔

ادھر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے آئندہ سال دنیا کی اقتصادی صورت حال کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے انتہائی سیاہ تصویر پیش کی ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ انیس سو تیس کے بعدامریکہ کو درپیش یہ بدترین مالی بحران سن دو ہزار نو کے اواخرء میں ختم ہونا شروع ہو گا اور دنیا کو اس سے نکلنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

قبل ازیں امریکہ کے وزیر خـزانہ ہینری پالسن نے کہا کہ حکومت نے جس سات سو ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ہے اس پر فوری طور پر عملدرآمد کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس پر فوری عمل انتہائی ضروری ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی بحران کے جلد ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے اور ملک کو کئی اقتصادی چیلنجوں کا سامنے رہے گا۔

انہوں نے اس عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف ملکوں کی طرف سے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

دریں اثناء اس عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ کے کئی ممالک کےمرکزی بینکوں نے بدھ کو بیک وقت شرح سود میں صفر اعشاریہ پانچ فیصد کمی کرنے کا اعلان کیا۔

اس دوران برطانوی حکومت نے اپنے بینکوں کو بچانے کے لیے پانچ سو ارب پاونڈ کے امدادی پیکچ کا اعلان کیا۔

امریکہ کے مرکزی بینک نے شرح سود کو دو فیصد سے کم کر کے ایک اعشاریہ پانچ فیصد کر دیا اور یورپین سینٹرل بینک نے شرح سود چار اعشاریہ دو پانچ سے کم کر کے تین اعشاریہ سات پانچ فیصد کر دیا۔

اس کے علاوہ کینیڈا، سویڈن اور سویٹزلینڈ کے مرکزی بینکوں نے بھی شرح سود میں کمی کا اعلان کیا۔

چین کے مرکزی بینک نے شرح سود میں صفر اعشاریہ دوسات فیصد کی کمی کی۔

امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں بیک وقت شرح سود کی کمی کے اعلان کے باوجود ان ممالک کی سٹاک مارکیٹیں عدم استحکام کا شکار رہیں۔

یورپ اور امریکہ کے حصص بازاروں میں ابتداء میں اس اقدام کا مثبت رد عمل دیکھنے میں آیا لیکن بعد میں تقریباً تمام حصص بازاروں کو مندی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے انداز ہوتا ہے کہ سرمایہ کار کا اس بات پر قائل نہیں ہو سکے کہ شرح سود میں کمی سے مالیاتی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

نیویارک میں ڈاؤ جونز ایک سو نواسی پوائٹ کمی کے ساتھ بند ہوا جبکہ ابتدائی گھنٹوں میں اس میں تیزی دیکھنے میں آئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد