چین: مزید سائٹوں پر پابندی ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اولمپک کے لیے بیجنگ میں آئے ہوئے صحافیوں کی شکایات پر جمعہ کو چین نے مزید کالعدم ویب سائٹوں کو بحال کردیا ہے۔ یہ ویب سائٹ چینی حکام اور اولمپک کمیٹی کے مابین بات چیت کے بعد بحال کی گئی ہیں۔ دوسری طرف چین کے صدر ہو جینتاؤ نے کہا ہے کہ اولمپک کھیلوں میں سیاست کو لانے کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔ ’مختلف ممالک اور خطوں سے آئے ہوئے افراد کسی بات پر متفق نہیں ہوں گے لیکن بات چیت سے یہ اختلافات کم کی جا سکتی ہیں۔‘ انٹرنیٹ کا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ان کھیلوں کے لیے آئے ہوئے صحافیوں کو انٹرنیٹ استمعال کرنے کےلیے مکمل آزادی نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اولمپک کمیٹی نے ان کو انٹرنیٹ تک آزادانہ رسائی کی یقین دہانی کرائی تھی۔ لیکن ان کو معلوم ہوا کہ اولمپک میڈیا سینٹر میں چند ویب سائٹ جن میں انسانی حقوق کی بھی سائٹ تھیں تک رسائی روک دی گئی ہے۔ اولمپک کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ’ہمارا مقصد ہے کہ بیجنگ اولمپک کو کور کرنے والے صحافی پہلے کسی بھی اولمپک کھیلوں کے طرح رپورٹنگ کرسکیں اور اگر انہیں انٹرنیٹ کے استمعال کی جہاں کہیں بھی پوری آزادی نہیں ملے گی ہم اس کی تفتیش کریں گے۔‘ تاہم جمعہ کو صحافی کئی کالعدم ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ویب سائٹ بھی شامل ہے۔ اولمپک کمیٹی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انٹرنیٹ کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ بی بی سی کی چینی زبان میں ویب سائٹ کے ساتھ چند مزید سائٹ تک بھی رسائی حاصل تھی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈپٹی ڈائریکٹر روزین رائف نے ویب سائٹ کو کولنے کے اقدام کا خیر مقدم کیا۔ |
اسی بارے میں چین اولمپکس، انسانی حقوق مزید پامال 29 July, 2008 | آس پاس اولمپک مشعل: آسٹریلیامیں احتجاج24 April, 2008 | آس پاس ’مشعل کا سفر نہیں رک سکتا‘08 April, 2008 | آس پاس چین پر ایمنسٹی کی نئی رپورٹ02 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||