اولمپک مشعل: آسٹریلیامیں احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے دارلحکومت کینبرا میں اولمپک مشعل کی پریڈ کے موقع پر تبت کی آزادی کے حامیوں اور چین کے حامیوں کے درمیان جھگڑے ہوئے ہیں۔ شہر کے ایک حصے کو سٹیل کی باڑ سے مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا تاکہ چین مخالف مظاہرین کو روکا جاسکے۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پریڈ میں چین کے حامیوں کی تعداد تبت کے حامیوں سے زیادہ تھی۔ لندن ، پیرس اور سان فرانسسکو جیسے شہروں میں اس مشعل کی پریڈ کے دوران تبت کی حمایت میں بڑے احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم کیون رڈ نے اعلان کیا تھا کہ حکام پرتشدد مظاہرین سے سختی سے نبٹیں گے۔ مشعل کی پریڈ کے آغاز کے موقع پر پولیس نے ایسے تین مظاہرین کو گرفتار کرلیا جو اس کے سامنے آنے کی کوشش کررہے تھے۔ ان مظاہرین کی وجہ سے مشعل کی پریڈ میں خلل نہیں پڑا۔ اس موقع پر مشعل کے ساتھ آئے ہوئے چینی سیکورٹی حکام اور آسٹریلوی سیکورٹی اہلکاروں کےدرمیان بھی کچھ کشیدگی دیکھنے میں آئی جب آسٹریلوی حکام نے اصرار کیا کہ وہ مشعل کی حفاظت خود کریں گے۔ تبت کے حامیوں نے چینی سفارت خانے کے باہر موم بتیاں جلد کر پر امن احتجاج بھی کیا۔ | اسی بارے میں مشعل مظاہرین کو نیپال کی وارننگ20 April, 2008 | آس پاس چین: پرامن مظاہروں کی استدعا 20 April, 2008 | آس پاس اولمپک مشعل: تبتیوں کا احتجاج17 April, 2008 | انڈیا دلی میں مشعل کی سخت سکیورٹی 17 April, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||