چین: پرامن مظاہروں کی استدعا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کی حکومت نے مغربی ممالک خصوصاً فرانس کے سپر مارکیٹ کارفور کی شاخوں کے خلاف احتجاج کرنے والے اپنے شہریوں سے پرامن رہنے کی درخواست کی ہے۔ حکومتی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار دی پیپلزڈیلی نے لکھا ہے کہ حب الوطنی کا اظہار ہوش مندی اور معقول طریقے سے کرنا چاہیے۔ مظاہرین پیرس اور لندن میں اولمپک مشعل کو چھیننے اور بجھانے کی کوشش کے خلاف غصے کا اظہار کر رہے تھے۔ انہوں نے مغربی دنیا پر تبت کے علیحدگی پسندوں کی حمایت کرنے اور مغربی میڈیا پر تعصب کا الزام لگایا۔ چین کی سرکاری خبررساں ادارے ژِنوا کا کہنا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ مظاہرین نے بینرز اٹھا کر چین کے شہر زیان میں کارفور سٹور کے سامنے مظاہرہ کیا جبکہ دوسرے شہروں ہربن اور جنان میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ ژِنوا نے مزید لکھا ہے کہ پولیس ان تینوں شہروں میں مظاہرین کی نگرانی کر رہی تھی مگریہ مظاہرے پرامن رہے۔ یہ مظاہرے گزشتہ روز چین کے شہر بیجنگ، وہان، حیفی، کن مینگاور قنگ داؤ میں سینکڑوں مظاہرین کے احتجاج کے بعد ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کارفور سٹورز کے سامنے کیے گئے۔
کارفور سٹور کے مالک نے اگست میں بیجنگ کی اولمپک کھیلوں کی میزبانی کی حمایت کرنے کا اپنا بیان دہرایا ہے اور مظاہرین کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ وہ تبت کی آزادی کے مہم کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ دی پیپلز ڈیلی نے اپنے اتوار کے ایڈیٹوریل میں چینی شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ’ایک شہری کی حیثیت سے ہمیں ذمہ دارانہ طور پر اپنے جذبے کا اظہار کرنا چاہیے اور حب الوطنی کا اظہار صحیح اور قانونی طریقے سے ہونا چاہیے۔‘ بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینییل گرفتھ کا کہنا ہے کہ یہ ایڈیٹوریل واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ چینی حکومت ان حالیہ مظاہروں میں تیزی نہیں دیکھنا چاہتی۔ اتوار کے دن بیجنگ کے حق میں یہ مظاہرے صرف چین تک محدود نہیں بلکہ پیرس میں بھی کئی ہزار مظاہرین نے ایک محل کے سامنے مظاہرے کیے جن میں سے اکثر نے ایسی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس پر یہ الفاظ درج تھے’آؤ اولمپکس کو ایک پل بناییں، نہ کہ ایک دیوار۔‘ اس کے علاوہ لندن اور مانچیسٹر میں بھی بی بی سی کی عمارت کے سامنے تقریبا تیرہ سو افراد نے مبینہ طور تعصبانہ کوریج کرنے پر مغربی میڈیا کے خلاف مظاہرہ کیا۔ یاد رہے کہ چین کی تبت کے متعلق پالیسیوں کی مخالفت کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں کے مظاہروں کے سبب کئی ممالک میں اولمپک مشعل کو پریڈ کے دوران دشواریوں کا سامنا رہا۔ | اسی بارے میں مشعل برداری کی رنگا رنگ تقریب16 April, 2008 | کھیل اولمپکس مشعل، سکیورٹی سخت15 April, 2008 | کھیل مشعل سے انکار: درد کا رشتہ یافریب 13 April, 2008 | کھیل اولمپکس کو کامیاب بنائیں گے: کمیٹی10 April, 2008 | کھیل اولمپک مشعل اٹھانے سے انکار01 April, 2008 | کھیل اولمپک بائیکاٹ کی اپیل مسترد29 March, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||