BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 July, 2008, 09:38 GMT 14:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران میں سرمایہ کاری سے انکار
کرسٹوف ڈی مرگری(فائل فوٹو)
ٹوٹل وہ آخری بڑی مغربی کمپنی تھی جو کہ ایران میں سرمایہ کاری میں سنجیدہ تھی
فرانس کی توانائی کی ایک کمپنی ٹوٹل کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے وہاں سرمایہ کاری نہیں کرے گی۔

اس فرم کے مینیجر کرسٹوف ڈی مرگری نے اخبار فائنینشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ان کی فرم ایران کے جنوب میں گیس فیلڈز پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن اب انہوں نے اپنا یہ منصوبہ ترک کردیا ہے۔‘

کمپنی کی طرف سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ جوہری پروگرام کے تنازع پر تہران کی واشنگٹن اور تل ابیب کے ساتھ کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اسی دوران ایران نے میزائلوں کے کئی تجربے کیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کی توانائی کی انڈسٹری کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔

 مبصرین کا خیال ہے کہ ٹوٹل کا یہ اقدام صرف اقتصادی پابندیوں یا سیاسی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی ایک وجہ بڑے بین الاقوامی بینکوں کی طرف سے ایران میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے تیار نہ ہونا بھی ہے

مسٹر مرگری نے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران میں سرمایہ کاری کر کے ہم آج ایک بہت بڑا سیاسی خطرہ مول لیں گے کیونکہ لوگ کہیں گے کہ ٹوٹل کمپنی پیسے کی خاطر کچھ بھی کر سکتی ہے۔‘

ٹوٹل کا شمار ان بڑی مغربی کمپنیوں میں ہوتا ہے جس کے پاس ایران کےگیس کے وسیع ذخائر کو قابل استعمال بنانے کی ٹیکنالوجی موجود تھی اور وہ ایران میں سرمایہ کاری میں سنجیدہ تھی۔

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لینی کا کہنا ہے کہ ٹوٹل کے اس پروجیکٹ سے ایران کو خلیج سے گیس کی وسیع مقدار حاصل کرنے میں مدد ملتی اور یہی پروجیکٹ اس کو دنیا میں توانائی مہیا کرنے والے سب سا بڑا ملک بنا دیتا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹوٹل کا یہ اقدام صرف اقتصادی پابندیوں یا سیاسی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی ایک وجہ بڑے بین الاقوامی بینکوں کی طرف سے ایران میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے تیار نہ ہونا بھی ہے۔

اس سے قبل بدھ کے روز ایران نےطویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل ’شہاب سوئم‘ کا تجربہ کیا تھا جو کہ اسرائیل میں اندر تک مار کر سکتا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے شہاب تین کی رینج دو ہزار کلو میٹر ہے اور یہ ان نو میزائلوں میں سے ایک ہے جسے کسی نامعلوم مقام سے فائر کیا گیا۔

امریکی نائب وزیرِ خارجہ ولیئم برنز نے ایران کے اس تجربے کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دییے ہوئے کانگریس کے ایک اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ’طاقت کا استعمال ایک راستہ ہے لیکن یہ (تجویز) ابھی میز پر ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ابھی تمام سفارتی امکانات کو پوری طرح آزمایا نہیں گیا۔

منگل کے روز امریکی حکومت نے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق کچھ اداروں اور افراد پر نئی اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ اِن پابندیوں کا اِطلاق اُن اداروں اور افراد پر ہوگا جن کے بارے میں محکمے کو یہ شک ہوگا کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو فروغ دینے میں شریک ہیں۔

امریکی پابندیاں دراصل ایران کو یورینیم کی افزودگی سے باز رکھنے کے لیے ہیں۔ ایران اس کو اپنا حق قراردیتا ہے۔

ایران پر نظر
نیااسرائیلی سیارہ ایران کی جاسوسی کرے گا
سعید جلیلیمزید پابندیاں؟
جوہری مذاکرات ناکام، پابندیوں کا تیسرا مرحلہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد