BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 June, 2008, 09:40 GMT 14:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق:امریکی فوجی چوکی پر حملہ
عراق میں امریکی فوجی ہلاک
امریکہ کی کوششوں کے باوجود عراق میں تشدد میں کمی نہیں آئی ہے
عراق میں امریکی اور عراقی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی صوبہ تمیم میں ایک خود کش کار بم دھماکے میں ایک امریکی فوجی ہلاک جبکہ دیگر اٹھارہ امریکی زخمی ہوئے ہیں۔اس حملے میں دو عراقی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔

صوبہ تمیم میں عرب، کرد اور ترکمنایوں کی مشترکہ آبادی ہے اور تیل سے مالا مال کرکوک اس کی دارالحکومت ہے۔ اسی صوبہ میں گزشتہ بدھ کو گولی باری میں تین امریکی ہلاک ہوئے تھے۔

کرکک میں ایک سینیئر پولیس افسر سرحت قدیر کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے سنی اکثریت والے علاقے رشاد میں قائم امریکی فوج کی چوکی کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار نے اپنی گاڑی فوجی چوکی سے ٹکرا دی۔ بقول قدیر دھماکہ خیز مادہ جانور کی کھال میں پوشیدہ تھا۔

اس سے قبل امریکی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سنیچر کے روز ایک فوجی کی گاڑی روڈ پر رکھے بم سے ٹکرا نے سے ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگيا ہے۔

ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق مارچ دو ہزار تین میں جب سے عراق میں جنگ کا آغاز ہوا ہے اب تک چار ہزار چورانوے امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بغداد میں گزشتہ دنوں پولیس میں بھرتی ہونے والے چار عراقی ہلاک ہوئے تھے اور بھرتی کے لیے جہاں پر لوگ جمع ہورہے تھے اس گیٹ پر تقریبا بائیس‎ دیگر زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے اس بارے میں متنازعہ بیانات دیے کہ آیا اس حملے میں مورٹار کا استعمال ہوا یا روڈ پر بم رکھا گیا تھا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز بغداد میں گرین زون کے پاس ہی ایک بم دھماکے میں تین شہری ہلاک اور دس زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہی شمالی بغداد میں ترکی کے سفارتخانے کے پاس راستے میں نصب ایک بم سے ایک شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

اس دوران اتوار کے روز ہی ایک دور دراز علاقے میں چھ چرواہوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ خبروں کے مطابق انہیں القاعدہ سے منسلک گروپ نے قتل کیا ہے۔ تشدد کی یہ کارروائیاں ان دور دراز علاقوں میں ہوئی ہیں جہاں امریکی اور عراقی فوج کی سخت کارروائی کے بعد بہت سے انتہا پسندوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

ادھر بصرہ میں اتوار کی صبح شعیہ گروپز نے ایک برطانوی چوکی پر راکٹ داغے ہیں۔ اس حملے میں کسی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے تاہم یہ تشویش ضرور پائی جاتی ہے کہ شعیہ ملیشاء اپنے آپ کو ایک بار پھر منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکی اور برطانوی فوج کی مدد سے عراقی فورسز نے شعیہ ملیشیاء کو پسپا کر کے شہر کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

اس دوران امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بغداد میں اس کے فوجیوں نے ہتھیاروں کے ایک ڈیلر کو گرفتار کیا ہے جو شعیہ انتہا پسندوں کو اندرون ملک اور ایران میں انہیں اسلحہ سپلائی کرنے کا انتظام کرتا تھا۔

امریکہ ایران پر اکثر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ ایران شیعہ انتہا پسندوں کو شدت پسندی کی تربیت دیتا ہے تاکہ وہ امریکی فوج کو نشانہ بنائیں جبکہ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ اسلحے کی ڈیلر کی گرفتاری ایک ایسے وقت عمل آئی ہے جب عراقی وزیر اعظم نوری المالکی ایران کے دورے پر ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد