 | | | نوری المالکی کی مذمت ان ارکان نے کی ہے جو شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کی حامی ہیں |
عراقی اراکینِ اسمبلی نے وزیرِاعظم نوری المالکی کی مذمت کرتے ہوئے انہیں قرآن کے حوالے سے’گمراہ‘ قرار دیا ہے۔ یہ مذمت ان ارکان نے کی ہے جو شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کی حامی ہیں۔ خود وزیراعظم نوری الماکی بھی پہلے حامی رہے ہیں۔ دوسری طرف عراق میں موجود امریکی اور امریکی سالاری میں میں کام کرنے والی غیر ملکی افواج کا الصدر کی مہدی ملیشیا سے لڑائی جاری ہے۔ جمعرات کو امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے بم دھماکے میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بغداد کے ضلع صدر سٹی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ امریکی فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سولہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے جب کہ محکہ صحت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ صدر سٹی میں گزشتہ ہفتوں کے دوران چار سو افراد ہلاک اور پچیس سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ الصدر کے حامی ارکانِ اسمبلی نے جمعرات کو بغداد کے سفارتی کمپاؤنڈ میں بلائی گئی ایک نیوز کانفرنس سے خطجب کے دوران مالکی اور ان کی حکومت کو مدمت کی۔
 | | | خود وزیراعظم نوری الماکی بھی مقتدیٰ الصدر کے حامی رہے ہیں پہلے حامی رہے ہیں |
اس موقع پر وہاں ان شہریوں کی تصاویر بھی لگائی گئی تھیں جو جو امریکی، غیر ملکی اور حکومتی فوجیوں کے ہاتھوں صدر سٹی میں ہلاک ہوئے ہیں۔ بعداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کلائیو مائر کے مطابق ان ارکانِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے شیعہ ملیشیا کو غیر مسلح کرنے کوشش کے باعث لاکھوں لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا دی ہے۔ انہی ارکان نے پہلے نور مالکی کی وزیراعظم بننے میں مدد کی تھی لیکن اب یہی ان کی مذمت کرنے کے لیے انہیں قرآن کے حوالے سے گمراہ قرار دے رہے ہیں۔ ان ارکان کے مطابق صدر سٹی کا محاصرہ جاری ہے اور حکومت نے علاقے کو تیل کی فراہمی بند کر دی ہے تاہم وزیراعظم مالکی اس کی تردید کرتے ہیں۔ |