BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 April, 2008, 12:01 GMT 17:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: اپریل میں چار سو ہلاک
عراق میں امریکی فوجی (فائل فوٹو)
مقتدی الصدر نے حکومت کی ہتھیار ڈالنے کی شرط کو مسترد کر دیا ہے
بغداد میں ہسپتال اہلکاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں شیعہ ملیشیا اور اتحادی افواج کے درمیان لڑائی میں اپریل کے مہینے میں چار سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی فوج نے یہ بتایا ہے کہ بغداد میں مختلف حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوگئے جس سے اس ماہ عراق میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 46 ہو گئی ہے۔

ایک امریکی فوجی اس وقت ہلاک ہوا جب اس کی گاڑی سڑک کے کنارے نصب بم کی زد میں آ گئی جبکہ دوسرا ایک چھوٹے ہتھیار کے سبب مارا گیا۔

سنہ دو ہزار سات کے بعد سے اب تک اپریل کا مہینہ امریکی فوجیوں کے لیے بدترین ثابت ہوا ہے کیونکہ گزشتہ روز کے واقعہ کے بعد اس کے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد چھیالیس ہو گئی ہے۔

امریکی اور عراق افواج آج کل بغداد میں شیعہ ملیشیا سے بر سرِ پیکار ہے۔

اپریل میں 46 امریکی فوجی ہلاک
امریکی فوج نے بتایا ہے کہ بغداد میں مختلف حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوگئے جس سے اس ماہ عراق میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 46 ہو گئی ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ دونوں امریکی فوجی شہر کے بغداد کے شمال مغرب میں منگل کی رات ہلاک ہوئے۔ تاہم امریکی فوج نے ان ہلاکتوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

شیعہ ملیشیا اور امریکی اور عراقی افواج کے مابین جھڑپوں میں اتوار کے روز شدت آ گئی جب ملیشیا کے اراکین نے جو مقتدی الصدر کے حمایتی ہیں، اتحادی افواج پر اس وقت ہلہ بول دیا جو شہر میں ریت کا طوفان آیا ہوا تھا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ منگل کو دارالحکومت کے صدر شہر میں جھڑپوں میں اٹھائیس شدت پسند مارے گئے۔ پیر کو راکٹوں سے گولے داغے جانے کے نتیجے میں چار امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ دونوں امریکی فوجی شہر کے بغداد کے شمال مغرب میں منگل کی رات ہلاک ہوئے

بغداد میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل سٹیو سٹوور کے مطابق: ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ شدت پسندوں کے بڑے گروہ جارحانہ طریقے سے عراقی اور امریکی فوج پر حملے کر رہے ہیں اور یہ حملے دن کی روشنی میں بھی ہو رہے ہیں۔‘

شدت پسندوں نے بغداد کے علاقے گرین زون میں راکٹوں اور مارٹر گولوں کی بارش کر دی تھی۔ اس عمارت میں سفارت خانے اور حکومتی عمارتیں ہیں۔

گزشتہ ہفتے مقتدی الصدر نے اپنے حمایتیوں سے کہا تھا کہ ’عراق پر امریکی قبضے کے خلاف مزاحمت‘ جاری رکھیں لیکن عراقیوں سے نہ لڑیں۔

تاہم انہوں نے عراقی حکومت کی ان شرائط کو مسترد کر دیا تھا جو شیعہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی روکنے کے لیے رکھی گئی تھیں۔ ان میں ملیشیا کا ہتھیار ڈالنا اور مطلوب جنگجوؤں کو حکام کے حوالے کرنا شامل ہے۔

بغداد میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والی لڑائی میں پچاس عام لوگ زخمی ہوئے۔

اسی بارے میں
حملوں میں آٹھ عراقی ہلاک
07 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد